انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے.*
____________________
* حضرت ہارون (عليه السلام) نے یہ اس وقت کہا جب یہ قوم سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی عبادت میں لگ گئی۔
**- اسرائیلیوں کو یہ گو سالہ اتنا اچھا لگا کہ ہارون (عليه السلام) کی بات کی بھی پروا نہیں کی اور اس کی تعظیم وعبادت چھوڑنے سے انکار کر دیا۔