سورة الأعراف | الآية ١٨٠

عرض السورة
الترجمات

ﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو* اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں**، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔

* ”حُسْنَى“ أَحْسَنُ کی تانیث ہے ۔ اللہ کے ان اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت وجلالت اور اس کی قدرت وطاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ صحیحین کی حدیث میں ان کی تعداد 99 (ایک کم سو) بتائی گئی ۔ اور فرمایا کہ ”جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا، اللہ تعالیٰ طاق ہے طاق کو پسند فرماتا ہے“۔ ( بخاري، كتاب الدعوات، باب لله مائة اسم غير واحد- مسلم، كتاب الذكر، باب في أسماء الله تعالى وفضل من أحصاها)، شمار کرنے کا مطلب ہے: ان پر ایمان لانا، یا ان کو گننا اور انہیں ایک ایک کرکے بطور تبرک اخلاص کے ساتھ پڑھنا، یا ان کا حفظ، ان کے معانی کا جاننا اور ان سے اپنے کو متصف کرنا۔ ( مرقاۂ شرح مشکوٰۂ، کتاب الدعوات، باب اسماء اللہ تعالیٰ ) بعض روایات میں ان 99ناموں کو ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ روایات ضعیف ہیں اور علما نے انہیں مدرج قرار دیا ہے یعنی راویوں کا اضافہ۔ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث کا حصہ نہیں ہیں۔ نیز علما نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر وفتح القدیر)۔
**- ”الحاد“ کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا۔ اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد (کج روی) کی تین صورتیں ہیں۔ (1)۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے ۔ جیسے مشرکین نے کیا ۔ مثلاً اللہ کے ذاتی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عَزِيزٌ سے عُزَّى ٰبنا لیا۔ (2)۔ یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافے کر لینا، جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ (3)۔ یا اس کے ناموں میں کمی کر دی جائے مثلاً اسے کسی ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے۔ (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة