سورة الأعراف | الآية ١٩٩

عرض السورة
الترجمات

ﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

آپ درگزر کو اختیار کریں* نیک کام کی تعلیم دیں** اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں۔***

* بعض علماء نے اس کے معنی کیے ہیں ”خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَيْ: مَا فَضَلَ“ یعنی ”جو ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو“ اور یہ زکوٰۂ کی فرضیت سے قبل کا حکم ہے۔ ( فتح الباري، جلد 8، ص 305) لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام ابن جریر اور امام بخاری وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر (رضي الله عنه)، کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر (رضي الله عنه)، کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر ان پر تنقید کرنے لگے کہ آپ ہمیں نہ پوری عطا دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) غضب ناک ہوئے، یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر (رضي الله عنه)، کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھیتجے تھے) حضرت عمر س، سے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حکم فرمایا تھا۔ «خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ» [الأعراف: 199]. ”درگزر کو اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے“۔ اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے“۔ جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه)، نے درگزر فرما دیا۔ ”وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ“ اور حضرت عمر (رضي الله عنه) اللہ کی کتاب کا حکم سن کر فوراً گردن خم کر دینے والے تھے۔ (صحيح بخاري - تفسير سورة الأعراف ) اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کر دینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلۂ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔
**- ”عُرْفٌ“ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے ۔
***- یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرما لیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں ۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة