سورة الشعراء | الآية ٥٩

عرض السورة
الترجمات

ﰉﰊﰋﰌﰍ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.*

* یعنی جو اقتدار اوربادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نےبنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطاکیا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورۂ دخان میں فرمایا گیا ہے«وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ» کہ ”ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا“ (ایسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرين میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورۂ شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانےکی صراحت آگئی ہے، تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا۔ اور ان کےانکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ موخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا۔ پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قبر، حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں، ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں۔ لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں، وَاللهُ أَعْلَمُ۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة