سورة النمل | الآية ٨٠

عرض السورة
الترجمات

ﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں*، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں.**

* یہ ان کافروں کی پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا بہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔ گویا کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل اور بہروں سے، جو وعظ ونصیحت سنتے ہیں نہ دعوت الی اللہ قبول کرتے ہیں۔
**- یعنی وہ حق سے مکمل طور پر گریزاں اور متنفر ہیں کیونکہ بہرہ آدمی رو در رو بھی کوئی بات نہیں سن پاتا چہ جائیکہ اس وقت سن سکے جب وہ منہ موڑ لے اور پیٹھ پھیرے ہوئے ہو۔ قرآن کریم کی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سماع موتی کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے۔ مردے کسی کی بات نہیں سن سکتے۔ البتہ اس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جہاں سماعت کی صراحت کسی نص سے ثابت ہوگی۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ مردے کو جب دفنا کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے (صحيح بخاري نمبر 338، صحيح مسلم نمبر 2201) یا جنگ بدر میں کافر مقتولین کو جو قلیب بدر میں پھینک دیئے گئے تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے خطاب فرمایا، جس پر صحابہ نے کہا ”آپ (صلى الله عليه وسلم) بے روح جسموں سے گفتگو فرما رہے ہیں“۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”یہ تم سے زیادہ میری بات سن رہے ہیں“۔ یعنی معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات مردہ کافروں کو سنوا دی (صحيح بخاري نمبر 1307)

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة