سورة القصص | الآية ٤

عرض السورة
الترجمات

ﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی* اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا** اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا*** اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا**** اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے.

* یعنی ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اپنے کو بڑا معبود کہلاتا تھا۔
**- جن کے ذمے الگ الگ کام اور ڈیوٹیاں تھیں۔
***- اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو اس وقت کی افضل ترین قوم تھی لیکن ابتلا وآزمائش کے طور پر فرعون کی غلام اور اس کی ستم رانیوں کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔
****- جس کی وجہ بعض نجومیوں کی یہ پیش گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ہر پیدا ہونے والا اسرائیلی بچہ قتل کر دیا جائے۔ حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاﮨﻦ سچا ہے تو ایسا یقیناً ہوکر رہے گا چاہے وہ بچے قتل کرواتا رہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہے تو قتل کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ (فتح القدیر) بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی طرف سے یہ خوشخبری منتقل ہوتی چلی آرہی تھی کہ ان کی نسل سے ایک بچہ ہوگا جس کے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی ہوگی۔ قبطیوں نے یہ بشارت بنی اسرائیل سے سنی اور فرعون کو اس سے آگاہ کر دیا جس پر اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانا شروع کر دیا۔ (ابن کثیر)

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة