سورة الأحزاب | الآية ٥١

عرض السورة
الترجمات

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے*، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں**، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں***۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے****۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے.

* اس کا تعلق إِنَّا أَحْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے حلت اس لئے ہے تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ (صلى الله عليه وسلم) ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
**- یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کو حاصل ہے۔
***- یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو یہ اختیار ملنے کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ (رضی الله عنها) کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے لئے ہبہ کردی تھی) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر برابر مقرر کر رکھی تھیں، اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے پاس گزارے ”أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ“ کا تعلق آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اس حسن سلوک اور عدل وانصاف سے خوش ہوجائیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔
****- یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کرسکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار ہی میں نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث نہ ہو۔ اسی لئے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمایا کرتے تھے یااللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (أبو داود، باب القسم في النساء، ترمذي، نسائي، ابن ماجه، مسند أحمد 6 / 144)۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة