سورة الزمر | الآية ٦

عرض السورة
الترجمات

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے*، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا** اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے*** وه تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا**** ہے تین تین اندھیروں***** میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو.******

* یعنی حضرت آدم (عليه السلام) سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔
**- یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم (عليه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔
***- یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہو جاتے ہیں، جن کا ذکر سورۂ انعام: آیت 143-144 میں گزر چکا ہے۔ أَنْزَلَ بِمَعْنَى خَلَقَ ہے یا ایک روایت کے مطابق، پہلے اللہ نے انہیں جنت میں پیدا فرمایا اور پھر انہیں نازل کیا، پس یہ انزال حقیقی ہوگا۔ یا أَنْزَلَ کا اطلاق مجازاً ہے اس لئے کہ یہ جانور چارے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور چارہ کی روئیدگی کے لئے پانی ناگزیر ہے۔ جو آسمان سے ہی بارش کے ذریعے سے اترتا ہے۔ یوں گویا یہ چوپائے آسمان سے اتارے ہوئے ہیں، (فتح القدیر)۔
****- یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار سے گزارتا ہے، پہلے نطفہ، پھر عَلَقَةً پھر مُضْغَةً، پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔
*****- ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرا، دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ کا اندھیرا، وہ جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لیٹا ہوا ہوتا ہے۔
******- یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو؟

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة