سورة فصلت | الآية ٢٩

عرض السورة
الترجمات

ﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا* (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں.**

* اس کا مفہوم واضح ہی ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین ہی نہیں ہوتے، انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شیطان کے زیراثر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ تاہم بعض نے جن سے ابلیس اور انسان سے قابیل مراد لیا ہے، جس نے انسانوں میں سب سے پہلے اپنے بھائی ہابیل کوقتل کر کے ظلم اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور حدیث کے مطابق قیامت تک ہونے والے ناجائز قتلوں کے گناہ کا ایک حصہ بھی اس کو ملتا رہے گا۔ ہمارے خیال میں پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
**- یعنی اپنے قدموں سے انہیں روندیں اور اس طرح ہم انہیں خوب ذلیل و رسوا کریں، جہنمیوں کو اپنےلیڈروں پر جو غصہ ہوگا، اس کی تشفی کےلیے وہ یہ کہیں گے۔ ورنہ دونوں ہی مجرم ہیں اور دونوں ہی یکساں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔ جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لا تَعْلَمُونَ (الأعراف: 38) جہنمیوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا تذکرہ فرما رہا ہے، جیساکہ عام طور پر قرآن کا اندازہے تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب اور ترغیب کے ساتھ ترہیب کا بھی اہتمام رہے۔ گویا انذار کے بعد اب تبشیر۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة