سورة الشورى | الآية ١٣

عرض السورة
الترجمات

ﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا*، کہ اس دین کو قائم رکھنا** اور اس میں پھوٹ نہ*** ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وه تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے****، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے***** اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اس کی صحیح ره نمائی کرتا ہے.******

* شَرَعَ کے معنی ہیں، بیان کیا، واضح کیا اور مقرر کیا، لَكُمْ (تمہارے لیے) یہ امت محمدیہ سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تمہارے لیے وہی دین مقرر یا بیان کیا ہے جس کی وصیت اس سے قبل تمام انبیا کو کی جاتی رہی ہے۔ اس ضمن میں چند جلیل القدر انبیا کے نام ذکر فرمائے۔
**- الدِّينِ سے مراد، اللہ پر ایمان، توحید اطاعت رسول اور شریعت الٰہیہ کو ماننا ہے۔ تمام انبیا کا یہی دین تھا جس کی وہ دعوت اپنی اپنی قوم کو دیتے رہے۔ اگرچہ ہر نبی کی شریعت اور منہج میں بعض جزوی اختلافات ہوتے تھے جیسا کہ فرمایا: «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» (المائدة: 48) لیکن مذکورہ اصول سب کے درمیان مشترکہ تھے۔ اسی بات کو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی، ہیں، ہمارا دین ایک ہے۔ (صحیح بخاری وغیرہ) اور یہ ایک دین وہی توحید واطاعت رسول ہے، یعنی ان کا تعلق ان فروعی مسائل سے نہیں ہے جن میں دلائل باہم مختلف یا متعارض ہوتے ہیں یا جن میں کبھی فہم کاﺗﺒایﻦ اور تفاوت ہوتا ہے۔ کیونکہ ان میں اجتہاد یا اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے اس لیے یہ مختلف ہوتے ہیں اور ہوسکتے ہیں، تاہم توحید واطاعت، فروعی نہیں، اصولی مسئلہ ہے جس پر کفر و ایمان کا دارومدار ہے۔
***- صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے) وحدت وائتلاف کی بنیاد ہے اور اس کی عبادت واطاعت سے گریز یا ان میں دوسروں کو شریک کرنا، افتراق وانتشار انگیزی ہے، جس سے (پھوٹ نہ ڈالنا) کہہ کر منع کیا گیا ہے۔
****- اور وہ وہی توحید اور اللہ ورسول کی اطاعت ہے۔
*****- یعنی جس کو ہدایت کا مستحق سمجھتا ہے، اسے ہدایت کے لیے چن لیتا ہے۔
******- یعنی اپنا دین اپنانے کی اور عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی توفیق اس شخص کو عطا کر دیتا ہے جو اس کی اطاعت و عبادت کی طرف رجوع کرتا ہے۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة