سورة الشورى | الآية ٢٣

عرض السورة
الترجمات

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی*، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے**۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے.***

* قبائل قریش اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کے درمیان رشتے داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ ونصیحت اور تبلیغ ودعوت کی کوئی اجرت تم سے نہیں مانگتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتے داری ہے، اس کا لحاظ کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی۔ لیکن مجھے نقصان پہنچانے سے تو باز رہو، تم میرے دست وبازو نہیں بن سکتے تو رشتہ داری وقرابت کے ناطے مجھے ایذا تو نہ پہنچاؤ اور میرے راستے کا روڑہ تو نہ بنو کہ میں فریضۂ رسالت ادا کرسکوں۔ حضرت ابن عباس ب نے اس کے معنی کیے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت (رشتہ داری) ہے اس کو قائم رکھو۔ (صحيح البخاري، تفسير سور الشورىٰ) نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی آل، یقیناً حسب ونسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے اس سے محبت، اس کی تعظیم وتوقیر جزو ایمان ہے۔ اس لیے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی احادیث میں ان کی تکریم اور حفاظت کی تاکید فرمائی ہے لیکن اس آیت کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کرکے اس آیت کو آل محمد (صلى الله عليه وسلم) کی محبت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور پھر آل کو بھی انہوں نے محدود کردیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی الله عنها اور حسنین رضی اللہ عنہما تک۔ نیز محبت کا مفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے۔ علاوہ ازیں کفار مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کا سوال بطور اجرت تبلیغ نہایت عجیب بات ہے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان ارفع سے بہت ہی فروتر ہے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تبلیغ کو قبول نہ کرنے کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طلب تو صرف قرابت اور صلۂ رحمی کی بنیاد پر محبت برقرار رکھنے کی تھی پھر یہ آیت اور سورت مکی ہے جب کہ حضرت علی ﺅ اور حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کے درمیان ابھی عقد زواج بھی قائم نہیں ہوا تھا۔ یعنی ابھی وہ گھرانہ معرض وجود میں ہی نہیں آیا تھا جس کی خودساختہ محبت کا اثبات اس آیت سے کیا جاتا ہے۔
**- یعنی اجر وثواب میں اضافہ کریں گے۔ یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مزید بدیوں کا ارتکاب ہے۔
***- اس لیے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کردیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة