سورة النساء | الآية ١٩

عرض السورة
الترجمات

ﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الجورجية
ქართული
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورثے میں لے بیٹھو* انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو** ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں*** ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے۔****

* اسلام سے قبل عورت پر ایک یہ ظلم بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مرجانے پر اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کےبھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھے اور خود اپنی مرضی سے، اس کی رضا مندی کے بغیر اس سے نکاح کر لیتے یا اپنے بھائی، بھتیجے سے اس کا نکاح کر دیتے، حتی کہ سوتیلابیٹا تک بھی مرنے والے باپ کی عورت سے نکاح کر لیتا یا اگر چاہتے تو اسے کسی بھی جگہ نکاح کرنے کی اجازت نہ دیتے اور وہ ساری عمر یوں ہی گزارنے پر مجبور ہوتی۔ اسلام نے ظلم کے اس تمام طریقوں سے منع فرما دی۔
**- ایک ظلم یہ بھی عورت پر کیا جاتا تھا کہ اگر خاوند کو وہ پسند نہ ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو ازخود اس کو طلاق نہ دیتا (جس طرح ایسی صورت میں اسلام نے طلاق کی اجازت دی ہے) بلکہ اسے خوب تنگ کرتا تاکہ وہ مجبور ہو کر حق مہر یا جو کچھ خاوند نے اسے دیا ہوتا، از خود واپس کرکے اس سے خلاصی حاصل کرنے کو ترجیح دے اسلام نے اس حرکت کو بھی ظلم قرار دیا ہے۔
***- کھلی برائی سے مراد بدکاری یا بدزبانی اور نافرمانی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں البتہ یہ اجازت دی گئی ہے کہ خاوند اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے کہ وہ اس کا دیا ہوا مال یا حق مہر واپس کرکے خلع کرانے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ خلع کی صورت میں خاوند کو حق مہر واپس لینے کا حق دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ آیت نمبر 229)
****- یہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا وہ حکم ہے جس کی قرآن نے بڑی تاکید کی ہے اور احادیث میں بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی بڑی وضاحت اور تاکید کی ہے ایک حدیث میں آیت کے اس مفہوم کو یوں بیان کیا گیا ہے «لا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ سَخِطَ مِنْهَا خُلُقًا، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»، (صحیح مسلم، کتاب الرضاع) ”مومن مرد (شوہر) مومنہ عورت (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو اس کی دوسری عادت پسندیدہ بھی ہو گی“، مطلب یہ ہے کہ بے حیائی اور نشوز وعصیان کے علاوہ اگر بیوی میں کچھ اور کوتاہیاں ہوں جن کی وجہ سے خاوند اسے ناپسند کرتا ہو تو اسے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلاق نہ دے بلکہ صبر اور برداشت سے کام لے، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں سے اس کے لئے خیر کثیر پیدا فرما دے۔ یعنی نیک اولاد دے دے یا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے کاروبار میں برکت ڈال دے، وغیرہ وغیرہ۔ افسوس ہے کہ مسلمان قرآن وحدیث کی ان ہدایات کے برعکس ذرا ذرا سی باتوں میں اپنی بیویوں کو طلاق دے ڈالتے ہیں اور اس طرح اسلام کے عطا کردہ حق طلاق کو نہایت ظالمانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حق تو انتہائی ناگزیر حالات میں استعمال کے لئے دیا گیا تھا، نہ کہ گھر اجاڑنے، عورتوں پر ظلم کرنے اور بچوں کی زندگیاں خراب کرنے کے لئے۔ علاوہ ازیں اس طرح یہ اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں کہ اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دے کر عورت پر ظلم کرنے کا اختیار اسے دے دیا۔ یوں اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی کو خرابی اور ظلم باور کرایا جاتا ہے۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة