سورة النساء | الآية ١١٣

عرض السورة
الترجمات

ﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الجورجية
ქართული
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ورحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا*، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا** اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے۔

* یہ اللہ تعالیٰ کی اس خاص حفاظت ونگرانی کا ذکر ہے جس کا اہتمام انبیاء (عليهم السلام) کے لئے فرمایا ہے جو انبیا پر اللہ کے فضل خاص اور اس کی رحمت خاصہ کا مظہر ہے۔ طائفہ (جماعت) سے مراد وہ لوگ ہیں جو بنو ابیرق کی حمایت میں رسول (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں ان کی صفائی پیش کر رہے تھے جس سے یہ اندیشہ پیدا ہو چلا تھا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اس شخص کو چوری کے الزام سے بری کر دیں گے، جو فی الواقع چور تھا۔
**- یہ دوسرے فضل واحسان کا تذکرہ ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر کتاب وحکمت (سنت) نازل فرما کر اور ضروری باتوں کا علم دے کر فرمایا گیا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: ”وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الإِيمَانُ“ (الشوریٰ: 52) ”اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف (قرآن لے کر) ایک فرشتہ اپنے حکم سے تو نہیں جانتا تھاکہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟“۔ ”وَمَا كُنْتَ تَرْجُو أَنْ يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ“ ( القصص:86) ”اور تجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تجھ پر کتاب اتاری جائے گی، مگر تیرے رب کی رحمت سے (یہ کتاب اتاری گئی)“ ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) پر فضل واحسان فرمایا اور کتاب وحکمت بھی عطا فرمائی، ان کے علاوہ دیگر بہت سی باتوں کا آپ (صلى الله عليه وسلم) کو علم دیا گیا جن سے آپ (صلى الله عليه وسلم) بےخبر تھے۔ یہ بھی گویا آپ (صلى الله عليه وسلم) کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہے کیونکہ جو خود عالم الغیب ہو، اسے تو کسی اور سے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور جسے دوسرے سے معلومات حاصل ہوں، وحی کے ذریعے سے یا کسی اور طریقے سے وہ عالم الغیب نہیں ہوتا۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة