سورة النساء | الآية ١١٩

عرض السورة
الترجمات

ﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الجورجية
ქართული
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اور انہیں راه سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دﻻتا رہوں گا* اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کی کان چیر دیں**، اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں***، سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وه صریح نقصان میں ڈوبے گا۔

* یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔
**- یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔
***-”تَغْيِيرُ خَلْقِ اللهِ“ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہی جس کا ابھی یہاں ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا، چیرنا، سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیا مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر کا مطلب تغییر فطرت ہے، یا حلت وحرمت میں تبدیلی ہے وغیرہ۔ اسی تغییر میں مردوں کی نس بندی کرکے اور اسی طرح عورتوں کے آپریشن کرکے انہیں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دینا۔ میک اپ کے نام پر ابروؤں کے بال وغیرہ اکھاڑ کر اپنی صورتوں کو مسخ کرنا اور وشم (یعنی گود نے گدوانا) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب شیطانی کام ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ جانوروں کو اس لئے خصی کرنا کہ ان سے زیادہ انتفاع ہو سکے یا ان کا گوشت زیادہ بہتر ہو سکے یا اسی قسم کا کوئی اور صحیح مقصد ہو، تو جائز ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے خصی جانور قربانی میں ذبح فرمائے ہیں۔ اگر جانور کو خصی کرنے کا جواز نہ ہوتا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کی قربانی نہ کرتے۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة