سورة النساء | الآية ١٧٦

عرض السورة
الترجمات

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮄﮅﮆﮇﮈﮉ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اوﻻد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے* اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اوﻻد نہ ہو**۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا***۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے****، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔

* ”كَلالَةٌ“ کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ ہو نہ بیٹا۔ یہاں پھر اس کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں نے کلالہ اس شخص کو قرار دیا ہے جس کا صرف بیٹا نہ ہو۔ یعنی باپ موجود ہو، لیکن یہ صحیح نہیں۔ کلالہ کی پہلی تعریف ہی صحیح ہے۔ کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث ہی نہیں ہوتی۔ باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ بیٹے کے ساتھ جس کا باپ بھی نہ ہو۔ یوں بیٹے کی نفی تو نص سے ثابت ہے اور باپ کی نفی اشارۃ النص سے ثابت ہو جاتی ہے۔
ملحوظہ : بیٹے سے مراد بیٹا اور پوتا دونوں ہیں۔ اسی طرح بہن سے مراد سگی بہن یا علاتی (باپ شریک) بہن ہے۔ (ایسرالتفاسیر) احادیث سے ثابت ہے کہ کلالہ کی بہن کے ساتھ بیٹی کی موجودگی میں بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف اور بیٹی اور پوتی کی موجودگی میں بیٹی کو نصف، پوتی کو سدس (چھٹا حصہ) اور بہن کو باقی یعنی ثلث دیا گیا۔ (فتح القدیر وابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ مرنے والے کی اولاد موجود ہو تو بہن کو بحیثیت ذوی الفروض کچھ نہیں ملے گا۔ اب اگر وہ اولاد بیٹا ہو تو کسی اور حیثیت سے بھی کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر بیٹی ہو تو بہن اس کے ساتھ عصبہ ہو جائے گی اورمَا بَقِيَ لے لے گی۔ یہ مابقی ایک بیٹی کی موجودگی میں نصف اور ایک سے زائد کی موجودگی میں ثلث ہوگا۔
**- اسی طرح باپ بھی نہ ہو۔ اس لئے کہ باپ، بھائی سے قریب ہے، باپ کی موجودگی میں بھائی وارث ہی نہیں ہوتا اگر اس کلالہ عورت کا خاوند یا کوئی ماں جایا بھائی ہوگا تو ان کا حصہ نکالنے کے بعد باقی مال کا وارث بھائی قرار پائے گا۔ (ابن کثیر )
***- یہی حکم دو سے زائد بہنوں کی صورت میں بھی ہوگا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ کلالہ شخص کی دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انہیں کل مال کا دو تہائی حصہ ملے گا۔
****- یعنی کلالہ کے وارث مخلوط (مرد اور عورت دونوں) ہوں تو پھر ”ایک مرد دو عورت کے برابر“ کے اصول پر ورثے کی تقسیم ہوگی۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة