سورة الأنعام | الآية ٩٣

عرض السورة
الترجمات

ﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الجورجية
ქართული
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اور اس شخص سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حاﻻنکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی ﻻتا ہوں اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ﻇالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی* اس سبب سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے، اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔**

* ظالم سے مراد ہر ظالم ہے اور اس میں کتاب الٰہی کا انکار کرنے والے اور جھوٹے مدعیان نبوت سب سے پہلے شامل ہیں۔ غَمَرَاتٌ سے موت کی سختیاں مراد ہیں۔ ”فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے“ یعنی جان نکالنے کے لئے۔ الْيَوْمَ (آﺝ) سے مراد قبض روح کا دن ہے اور یہی عذاب کے آغاز کا وقت بھی ہے جس کا مبدا قبر ہے۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ ورنہ ہاتھ پھیلانے اور جان نکالنے کا حکم دینے کے ساتھ اس بات کے کہنے کے کوئی معنی نہیں کہ آﺝ تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ خیال رہے قبر سے مراد برزخ کی زندگی ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی کے بعد اور آخرت کی زندگی سے قبل، یہ ایک درمیان کی زندگی ہے جس کا عرصہ انسان کی موت سے قیامت کے وقوع تک ہے۔ یہ برزخی زندگی کہلاتی ہے. چاہے اسے کسی درندے نے کھا لیا ہو، اس کی لاش سمندر کی موجوں کی نذر ہوگئی ہو یا اسے جلا کر راکھ بنا دیا گیا یا قبر میں دفنا دیا گیا ہو۔ یہ برزخ کی زندگی ہے جس میں عذاب دینے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے۔
**- اللہ کے ذمے جھوٹی باتیں لگانے میں انزال کتب اور ارسال رسل کا انکار بھی ہے اور جھوٹا دعوائے نبوت بھی ہے۔ اسی طرح نبوت ورسالت کا انکار واستکبار ہے۔ ان دنوں وجوہ سے انہیں ذلت ورسوائی کا عذاب دیا جائے گا۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة