سورة الأعراف | الآية ٩

عرض السورة
الترجمات

ﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے۔*

* ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا اور جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے، جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرما دے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے تو یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تو لے جائیں گے جن میں انسان کے اعمال درﺝ ہوں گے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا۔ تینوں مسلکوں والوں کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار یا اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بے وزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة