سورة الأعراف | الآية ٣٨

عرض السورة
الترجمات

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻ

الأردية
اردو
الإنجليزية
English
الفرنسية
Français
الإسبانية
Español
البرتغالية
Português
الألمانية
Deutsch
الإيطالية
Italiano
التركية
Türkçe
الإندونيسية
Bahasa Indonesia
الفلبينية
Tagalog
الفارسية
فارسی
الأردية
اردو
البنغالية
বাংলা
الكردية
Kurdî / كوردی
البشتوية
پښتو
البوسنية
Bosanski
الألبانية
Shqip
الأوكرانية
Українська
الصينية
中文
الأويغورية
Uyƣurqə / ئۇيغۇرچە
اليابانية
日本語
الكورية
한국어
الفيتنامية
Vèneto
الكازاخية
Қазақша
الأوزبكية
Ўзбек
الأذرية
Azərbaycanca / آذربايجان
الطاجيكية
Тоҷикӣ
الهندية
हिन्दी
المليبارية
മലയാളം
الغوجراتية
ગુજરાતી
الماراتية
मराठी
التلجوية
తెలుగు
التاميلية
தமிழ்
السنهالية
සිංහල
الأسامية
অসমীয়া
الخميرية
ភាសាខ្មែរ
النيبالية
नेपाली
التايلاندية
ไทย / Phasa Thai
الصومالية
Soomaaliga
الهوساوية
هَوُسَ
الأمهرية
አማርኛ
اليورباوية
Yorùbá
الأورومية
Oromoo
الفنلندية
Suomi
ماراناو
Maranao
فلمكني (هولندية)
Nederlands
النرويجية
Norsk (bokmål / riksmål)
البولندية
Polski
الرومانية
Română
الروسية
Русский
تتاري
Tatarça
السواحلية
Kiswahili
لغة الملايو
Bahasa Melayu
تشيكي
Česky
المالديفية
ދިވެހިބަސް
السويدية
Svenska
العبرية
עברית
الصربية
Српски
اللوغندية
Oluganda
الإنكو بامبارا
ߒߞߏ – ߞߊ߲ߡߊߛߙߋ

اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں* جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی** یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے*** تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے**** کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے*****۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے******، لیکن تم کو خبر نہیں۔

* ”أُمَم ٌ“ أمَّةٌ کی جمع ہے۔ مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفروشقاق اور شرک وتکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ ”فِي“ بمعنی ”مَعَ“ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں، ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاوء یا ان میں شامل ہوجاؤ۔
**- ”لَعَنَتْ أُخْتَهَا“ اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ أُخْتٌ بہن کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔
***- ”ادَّارَكُوا“ کے معنی ہیں تَدَارَكُوا جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہوں گے۔
****- ”أُخْرَىٰ“ (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولیٰ (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا أُخْرَىٰ سےأَتْبَاعٌ ( پیروکار) اور أُولَى سے مَتْبُوعٌ لیڈر اور سردار ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور رہے اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے اتباع سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
*****- جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے «رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَ * رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ( الاحزاب: 67۔ 68) ”اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یااللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر“۔
******- یعنی اب ایک دوسرے کو طعنے دینے، کوسنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ اتباع اور متبوعین کا یہ مکالمہ سورۂ سبا: 31، 32 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

الترجمة الأردية

تصفية حسب الترجمة — يمكن اختيار أكثر من ترجمة للمقارنة