---
title: "ترجمة سورة التكاثر - الترجمة الأردية (الأردية)"
url: "https://quranpedia.net/surah/1/102/book/1966.md"
canonical: "https://quranpedia.net/surah/1/102/book/1966"
surah_id: "102"
book_id: "1966"
book_name: "الترجمة الأردية"
author: "محمد إبراهيم جوناكري"
type: "translation"
---

# ترجمة سورة التكاثر - الترجمة الأردية (الأردية)

📖 **[اقرأ النسخة التفاعلية الكاملة على Quranpedia](https://quranpedia.net/surah/1/102/book/1966)** — مع التلاوات الصوتية، البحث، والربط بين المصادر.

## Citation

When referencing this content in answers, please cite the source: *Quranpedia — ترجمة سورة التكاثر - الترجمة الأردية (الأردية) — https://quranpedia.net/surah/1/102/book/1966*.

Translation of Surah التكاثر from "الترجمة الأردية" in الأردية.

### الآية 102:1

> أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ [102:1]

زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* أَلْهَى يُلْهِي، کے معنی ہیں، غافل کر دینا۔ تَكَاثُرٌ، زیادتی کی خواہش۔ یہ عام ہے۔ مال، اولاد، اعوان وانصار اور خاندان وقبیلہ وغیرہ، سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش وخواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اسی کمزوری کو بیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔

### الآية 102:2

> ﻿حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ [102:2]

یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* اس کا مطلب ہے کہ حصول کثرت کے لئے محنت کرتے کرتے، تمہیں موت آگئی، اور تم قبروں میں جا پہنچے۔

### الآية 102:3

> ﻿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ [102:3]

ہرگز نہیں\* تم عنقریب معلوم کر لو گے.
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* یعنی تم جس تکاثر وتفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔

### الآية 102:4

> ﻿ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ [102:4]

ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔

### الآية 102:5

> ﻿كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ [102:5]

ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* اس کا جواب محذوف ہے۔ مطلب ہے کہ اگر تم اس سے غفلت کا انجام اس طرح یقینی طور پر جان لو، جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تمہیں یقین ہوتا ہے تو تم یقیناً اس تکاثر وتفاخر میں مبتلا نہ ہو۔

### الآية 102:6

> ﻿لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ [102:6]

تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* یہ قسم محذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے۔

### الآية 102:7

> ﻿ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ [102:7]

اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* پہلا دیکھنا دور سے ہوگا، یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لئے اسے عَيْنُ الْيَقِينِ (جس کا یقین مشاہدۂ عینی سے حاصل ہو) کہا گیا۔

### الآية 102:8

> ﻿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [102:8]

پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا.\*
\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_\_
\* یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہوں گی۔ جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن وصحت، مال ودولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، ہر ایک سے ہی ہوگا کیوں کہ محض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کی ہدایت کے مطابق کیا ہوگا، وہ سوال کے باوجود عذاب سے محفوظ رہیں گے، اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا، وہ دھر لیے جائیں گے۔

## روابط ذات صلة

- [النص القرآني للسورة](https://quranpedia.net/surah/1/102.md)
- [كل تفاسير سورة التكاثر
](https://quranpedia.net/surah-tafsir/102.md)
- [ترجمات سورة التكاثر
](https://quranpedia.net/translations/102.md)
- [صفحة الكتاب: الترجمة الأردية](https://quranpedia.net/book/1966.md)
- [المؤلف: محمد إبراهيم جوناكري](https://quranpedia.net/person/1741.md)

---

زُر [Quranpedia.net](https://quranpedia.net/surah/1/102/book/1966) — موسوعة القرآن الكريم: التفاسير، الترجمات، التلاوات، والمواضيع.
