اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا۔*— الترجمة الأردية
* زَحْفًا کے معنی ہیں ایک دوسرے کے مقابل اور دوبدو ہونا ۔ یعنی مسلمان اور کافر جب ایک دوسرے کے بالمقابل صف آرا ہوں تو پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو!“ ان سات میں ایک التَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ (قابلے والے دن پیٹھ پھیر جانا ہے) ( صحيح بخاري، نمبر ٢٧٦٦ كتاب الوصايا وصحيح مسلم، كتاب الإيمان)
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationيَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ زَحۡفٗا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلۡأَدۡبَارَاے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا