اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا* اور سمجھ لیا کہ وه ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے.— الترجمة الأردية
* زمین سے مراد ارض مصر ہے جہاں فرعون حکمران تھا اور استکبار کا مطلب، بغیر استحقاق کے اپنے کو بڑا سمجھنا ہے۔ یعنی ان کے پاس کوئی دلیل ایسی نہیں تھی جو موسیٰ (عليه السلام) کے دلائل ومعجزات کا رد کر سکتی لیکن استکبار بلکہ عدوان کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے ہٹ دھرمی اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationوَٱسۡتَكۡبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ إِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُونَاس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا اور سمجھ لیا کہ وه ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے