پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے*، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں**، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں.— الترجمة الأردية
* جب وسائل رزق تمام تر اللہ ہی کےاختیار میں ہیں اور وہ جس پر چاہے اس کےدروازے کھول دیتا ہےتو اصحاب ثروت کو چاہئے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئےمال میں سے ان کا وہ حق ادا کرتے رہیں جو ان کے مال میں ان کے مستحق رشتے داروں، مساکین اور مسافر کا رکھا گیا ہے، رشتےدار اس لئے مقدم کیاکہ اس کی فضیلت زیادہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ غریب رشتےدار کے ساتھ احسان کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلۂ رحمی کا۔ علاوہ ازیں اسے حق سےتعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ امداد کرکے ان پر تم احسان نہیں کرو گے بلکہ ایک حق کی ہی ادائیگی کرو گے۔
**- یعنی جنت میں اس کے دیدار سےمشرف ہونا۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationفَـَٔاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَپس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں