بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)* دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا.**— الترجمة الأردية
* یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہشات کے بندے بن گئے۔
**- حق سے قرآن اور رسول سے حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) مراد ہیں۔ مُبِينٌ رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا یا جن کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی اشتباہ اور خفا نہیں۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationبَلۡ مَتَّعۡتُ هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ وَرَسُولٞ مُّبِينٞبلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب) دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا