پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے* دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں.— الترجمة الأردية
* یہ آنا کس طرح تھا؟ اس کی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی۔ یہ دونوں اللہ کےپاس آئے جس طرح اس نےچاہا۔ بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کا اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضرہیں۔ چنانچہ اللہ نے آسمان کو حکم دیا، سورج، چاند اور ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کردے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یا مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَپھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں