یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے*۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا**، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں.***— الترجمة الأردية
* کہ ان کو عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى (فاطر، 45)
**- یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کردیا گیا ہوتا۔
***- یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سےنہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رکھتا ہے۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationوَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖیقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں