اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا*، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا**، تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں.— الترجمة الأردية
* یعنی ایک ایک شخص کی اس طرح نشان دہی کر دیتے کہ ہر منافق کو عیانا پہچان لیا جاتا۔ لیکن تمام منافقین کے لئے اللہ نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ اللہ کی صفت ستاری کے خلاف ہے، وہ بالعموم پردہ پوشی فرماتا ہے، پردہ دری نہیں۔ دوسرا اس نے انسانوں کو ظاہر پر فیصلہ کرنےکا اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔
**- البتہ ان کا لہجہ اور انداز گفتگو ہی ایسا ہوتا ہے جو ان کے باطن کا غماز ہوتا ہے، جس سے اسے پیغمبر تو ان کو یقیناً پہچان سکتا ہے۔ یہ عام مشاہدے میں آنے والی بات ہے، انسانوں کے دل میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اسے لاکھ چھپائے لیکن انسان کی گفتگو، حرکات وسکنات اور بعض مخصوص کیفیات، اس کے دل کے راز کو آشکارا کر دیتی ہیں۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationوَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡاور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا، تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں