اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے.*— الترجمة الأردية
* فرعون کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم روا رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی سرکشی و طغیانی بھی بہت بڑھ گئی تھی حتٰی کہ وہ دعویٰ کرنے لگا تھا «اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» (النازعات:24) «”یں تمہارا بلند تر رب ہوں“۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰاب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے