تيسير العلي القدير لاختصار تفسير ابن كثير
له ، وأن محمداً عبده ورسوله ، وأن عيسى عبد الله ورسوله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه ، وأن الجنة حق ، والنار حق؛ أدخله الله الجنة على ما كان من العمل » .
لطائف الإشارات موافقا للمطبوع
. ___________ (1) التعبير بالجمع هنا قد يفيد زيادة الرعاية في حق المصطفى صلوات اللّه عليه ، خصوصا إذا تذكرنا أنه سبحانه قال في حق موسى عليه السلام «وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي» فالتعبير في هذه الحالة بالمفرد
الترجمة الأردية
، سنت نبوی (صلى الله عليه وسلم) کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے میں برائی کے بجائے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کےمفہوم میں شامل ہیں۔
الترجمة الأردية
مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلافات بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان اور اہل کفر، اہل حق رہتا ہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق
الترجمة الأردية
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)* دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہشات کے بندے بن گئے۔ **- حق
الوجيز في تفسير الكتاب العزيز
> { لتنذر قوما ما أنذر آباؤهم } في الفترة { فهم غافلون } عن الإيمان والرشد 7 < < يس : ( 7 ) لقد حق > > { لقد حق القول } وجبت عليهم كلمة العذاب { فهم لا يؤمنون } ثم بين سبب تركهم الإيمان فقال ______
تفسير القرآن العزيز
| ماله ، فقد أعطى حق الله فيه ، ومن زاد فهو خير له ' . | | < < الحشر : ( 10 ) والذين جاؤوا من . . ( جاءوا من بعدهم ) ^ | يعني : بعد أصحاب النبي إلى يوم القيامة ، فلم يبق أحد إلا وله في هذا المال | حق
الترجمة الأردية
تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے** اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ ____________________ * یعنی یا تو تجارتی قافلہ تمہیں
الترجمة الأردية
دلیل پیش کرو۔ یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل*۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق قبل کی دیگر کتابوں میں، سب میں صرف ایک ہی معبود کی الوہیت و ربوبیت کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ مشرکین اس حق