اہل کتاب کے کافر* اور مشرک** لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ).— الترجمة الأردية
* اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں۔
**- مشرک سے مراد عرب وعجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ مُنْفَكِّينَ باز آنے والے، بَيِّنَةٌ ( دلیل ) سے مراد نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی یہود ونصاریٰ اور عرب وعجم کے مشرکین اپنے کفر وشرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد (صلى الله عليه وسلم) قرآن لے کر آجائیں اور وہ ان کی ضلالت وجہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationبینہ
لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُاہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ)