اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر* باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ.**— الترجمة الأردية
* تَرَكْنَاهَا میں ضمیر کا مرجع سفینہ ہے۔ یا فعلہ یعنی تَرَكْنَا هَذِهِ الْفِعْلَةَ الَّتِي فَعَلْنَاهَا بِهِمْ عِبْرَةً وَّمَوْعِظَةً (فتح القدير)۔
**- مُدَّكِرٍ، اصل میں مُذْتَكِرٍ ہے۔ تاکو ڈال سے بدل دیا گیا اور ذال معجمہ کو دال بناکر، دال کا دال میں ادغام کر دیا گیا۔ معنی ہیں عبرت پکڑنے اورنصیحت حاصل کرنے والا۔ (فتح القدیر)۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationوَلَقَد تَّرَكۡنَٰهَآ ءَايَةٗ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖاور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ