پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا.*— الترجمة الأردية
* سورت کے آغاز میں اعمال کےلحاظ سے انسانوں کی جو تین قسمیں بیان کی گئیں تھیں، ان کا پھر ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی پہلی قسم ہے جنہیں مقربین کے علاوہ سابقین بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ نیکی کے ہرکام میں آگے آگے ہوتے ہیں اور قبول ایمان میں بھی دوسروں سے سبقت کرتے ہیں اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے وہ مقربین بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationفَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَپس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا