ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون* نے جھٹلایا تھا.— الترجمة الأردية
* فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضب ناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں، پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا، یا اس سے مقصد بطور استعارہ اس کی قوت وشوکت اور مضبوط حکومت کا اظہار ہے یعنی میخوں سے جس طرح کسی چیز کو مضبوط کر دیاجاتا ہے، اس کا لشکر جرار اور اس کے پیروکار بھی اس کی سلطنت کی قوت واستحکام کا باعث تھے۔
— محمد جوناگڑھی - Urdu translationكَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَفِرۡعَوۡنُ ذُو ٱلۡأَوۡتَادِان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا