الترجمة الأردية سے الأردية میں سورۃ نازعات کا ترجمہ
Verse 1
ﮢﮣ
ﮤ
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!*
____________________
* نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
____________________
* نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
Verse 2
ﮥﮦ
ﮧ
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!*
____________________
* نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
____________________
* نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
Verse 3
ﮨﮩ
ﮪ
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!*
____________________
* سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سےموتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
____________________
* سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سےموتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
Verse 4
ﮫﮬ
ﮭ
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!*
____________________
* یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیا تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
____________________
* یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیا تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
Verse 5
ﮮﮯ
ﮰ
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!*
____________________
* یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ (تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی)۔ قرآن نے اس بعث وجزاء کے لئے کئی مواقع پر قسم کھالی ہے جیسے سورۂ تغابں: 7 میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث وجزا کب ہوگی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
____________________
* یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ (تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی)۔ قرآن نے اس بعث وجزاء کے لئے کئی مواقع پر قسم کھالی ہے جیسے سورۂ تغابں: 7 میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث وجزا کب ہوگی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
Verse 6
ﮱﯓﯔ
ﯕ
جس دن کانپنے والی کانپے گی.*
____________________
* یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
____________________
* یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
Verse 7
ﯖﯗ
ﯘ
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی.*
____________________
* یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سےچالیس سال بعد ہوگا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لئےکہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
____________________
* یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سےچالیس سال بعد ہوگا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لئےکہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
Verse 8
ﯙﯚﯛ
ﯜ
(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے.*
____________________
* قیامت کےاہوال اور شدائد سے۔
____________________
* قیامت کےاہوال اور شدائد سے۔
Verse 9
ﯝﯞ
ﯟ
جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی.*
____________________
* یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی ( مجرموں کی طرح ) جھکی ہوئی ہوں گی۔
____________________
* یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی ( مجرموں کی طرح ) جھکی ہوئی ہوں گی۔
Verse 10
ﯠﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟*
____________________
* حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکریں قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گےجس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
____________________
* حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکریں قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گےجس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
Verse 11
ﯦﯧﯨﯩ
ﯪ
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟*
____________________
* یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئےجائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
____________________
* یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئےجائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
Verse 12
ﯫﯬﯭﯮﯯ
ﯰ
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے*
____________________
* یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہتاہے، پھر تو یہ دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی۔
____________________
* یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہتاہے، پھر تو یہ دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی۔
Verse 13
ﯱﯲﯳﯴ
ﯵ
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے.
Verse 14
ﯶﯷﯸ
ﯹ
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے.*
____________________
* سَاهِرَةٌ سےمراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لئےکہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سےانسان کی نیند اڑ جاتی ہےاور وہاں بیدار رہتاہے، اس لئے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ ( فتح القدیر ) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
____________________
* سَاهِرَةٌ سےمراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لئےکہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سےانسان کی نیند اڑ جاتی ہےاور وہاں بیدار رہتاہے، اس لئے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ ( فتح القدیر ) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
Verse 15
ﯺﯻﯼﯽ
ﯾ
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
Verse 16
ﯿﰀﰁﰂﰃﰄ
ﰅ
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا.*
____________________
* یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے واپس آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نےموسیٰ (عليه السلام) سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت ورسالت سےنوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ (عليه السلام) آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
____________________
* یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے واپس آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نےموسیٰ (عليه السلام) سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت ورسالت سےنوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ (عليه السلام) آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
Verse 17
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.*
____________________
* یعنی کفر ومعصیت اور تکبر میں حد سےتجاوز کر گیا ہے۔
____________________
* یعنی کفر ومعصیت اور تکبر میں حد سےتجاوز کر گیا ہے۔
Verse 18
ﭗﭘﭙﭚﭛﭜ
ﭝ
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.*
____________________
* یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسندکرتا ہےجس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔
____________________
* یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسندکرتا ہےجس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔
Verse 19
ﭞﭟﭠﭡ
ﭢ
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.*
____________________
* یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
____________________
* یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
Verse 20
ﭣﭤﭥ
ﭦ
پس اسے بڑی نشانی دکھائی.*
____________________
* یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
____________________
* یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
Verse 21
ﭧﭨ
ﭩ
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.*
____________________
* لیکن ان دلائل ومعجزات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اور تکذیب ونافرمانی کےراستے پر وہ گامزن رہا۔
____________________
* لیکن ان دلائل ومعجزات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اور تکذیب ونافرمانی کےراستے پر وہ گامزن رہا۔
Verse 22
ﭪﭫﭬ
ﭭ
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.*
____________________
* یعنی اس نے ایمان واطاعت سےاعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور موسیٰ (عليه السلام) کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کرکے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سےکرایا، تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
____________________
* یعنی اس نے ایمان واطاعت سےاعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور موسیٰ (عليه السلام) کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کرکے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سےکرایا، تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
Verse 23
ﭮﭯ
ﭰ
پھر سب کو جمع کرکے پکارا.*
____________________
* اپنی قوم کو، یا قتال ومحاربہ کے لئے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لئے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
____________________
* اپنی قوم کو، یا قتال ومحاربہ کے لئے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لئے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
Verse 24
ﭱﭲﭳﭴ
ﭵ
تم سب کا رب میں ہی ہوں.
Verse 25
ﭶﭷﭸﭹﭺ
ﭻ
تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.*
____________________
* یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کےلئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کےعلاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
____________________
* یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کےلئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کےعلاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
Verse 26
ﭼﭽﭾﭿﮀﮁ
ﮂ
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.*
____________________
* اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نےگزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
____________________
* اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نےگزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
Verse 27
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا*؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
____________________
* یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر وتوبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
____________________
* یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر وتوبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
Verse 28
ﮋﮌﮍ
ﮎ
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.*
____________________
* بعض نے سَمْكٌ کےمعنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسےایسی شکل وصورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
____________________
* بعض نے سَمْكٌ کےمعنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسےایسی شکل وصورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
Verse 29
ﮏﮐﮑﮒ
ﮓ
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.*
____________________
* أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز َ اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سےاچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
____________________
* أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز َ اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سےاچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
Verse 30
ﮔﮕﮖﮗ
ﮘ
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.*
____________________
* یہ حم السجدۃ:9 میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش ) اور چیز ہے اور دَحَى( ہموار کرنا ) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔
____________________
* یہ حم السجدۃ:9 میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش ) اور چیز ہے اور دَحَى( ہموار کرنا ) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔
Verse 31
ﮙﮚﮛﮜ
ﮝ
اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
Verse 32
ﮞﮟ
ﮠ
اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
Verse 33
ﮡﮢﮣ
ﮤ
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
Verse 34
ﮥﮦﮧﮨ
ﮩ
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
Verse 35
ﮪﮫﮬﮭﮮ
ﮯ
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
Verse 36
ﮰﮱﯓﯔ
ﯕ
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.*
____________________
* یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسےدیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف ودہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر ان کے غم وحسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
____________________
* یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسےدیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف ودہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر ان کے غم وحسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
Verse 37
ﯖﯗﯘ
ﯙ
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).*
____________________
* یعنی کفر ومعصیت میں حد سے تجاوز کیاہوگا۔
____________________
* یعنی کفر ومعصیت میں حد سے تجاوز کیاہوگا۔
Verse 38
ﯚﯛﯜ
ﯝ
اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).*
____________________
* یعنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا ہوگا اور آخرت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ہوگی۔
____________________
* یعنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا ہوگا اور آخرت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ہوگی۔
Verse 39
ﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.*
____________________
* اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
____________________
* اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
Verse 40
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے* سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.**
____________________
* کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
**- یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
____________________
* کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
**- یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
Verse 41
ﯭﯮﯯﯰ
ﯱ
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.*
____________________
* جہاں وہ قیام پذیر، بلکہ اللہ کا مہمان ہوگا۔
____________________
* جہاں وہ قیام پذیر، بلکہ اللہ کا مہمان ہوگا۔
Verse 42
ﯲﯳﯴﯵﯶ
ﯷ
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.*
____________________
* یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟
____________________
* یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟
Verse 43
ﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟*
____________________
* یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
____________________
* یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
Verse 44
ﯽﯾﯿ
ﰀ
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
Verse 45
ﰁﰂﰃﰄﰅ
ﰆ
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.*
____________________
* یعنی آپ کا کام صرف انذار ( ڈرانا ) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ مَنْ يَخْشَاهَا اس لئے کہا کہ انذار وتبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار وتبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لئےہے۔
____________________
* یعنی آپ کا کام صرف انذار ( ڈرانا ) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ مَنْ يَخْشَاهَا اس لئے کہا کہ انذار وتبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار وتبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لئےہے۔
Verse 46
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.*
____________________
* عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لئے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش وعشرت اور اس کےمزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
____________________
* عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لئے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش وعشرت اور اس کےمزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
تقدم القراءة