محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ حجر کا ترجمہ
Verse 1
حجر
الرٰ، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلے اور روشن قرآن کی
Verse 2
وه بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے
Verse 3
آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئے یہ خود ابھی جان لیں گے
Verse 4
کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے مقرره نوشتہ تھا
Verse 5
کوئی گروه اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے
Verse 6
انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے
Verse 7
اگر تو سچا ہی ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں ﻻتا
Verse 8
ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وه مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے
Verse 9
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں
Verse 10
ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے
Verse 11
اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وه اس کا مذاق اڑاتے
Verse 12
ﮰﮱﯓﯔﯕ
ﯖ
گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں
Verse 13
وه اس پر ایمان نہیں ﻻتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے
Verse 14
اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں
Verse 15
تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے
Verse 16
یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لیے اسے سجا دیا گیا ہے
Verse 17
ﭙﭚﭛﭜﭝ
ﭞ
اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے
Verse 18
ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے
Verse 19
اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے
Verse 20
اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو
Verse 21
اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقرره انداز سے اتارتے ہیں
Verse 22
اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں، پھر آسمان سے پانی برسا کر وه تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیره کرنے والے نہیں ہو
Verse 23
ﮕﮖﮗﮘﮙﮚ
ﮛ
ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالﺂخر) وارث ہیں
Verse 24
اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں
Verse 25
آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وه بڑی حکمتوں واﻻ بڑے علم واﻻ ہے
Verse 26
یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے
Verse 27
اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا
Verse 28
اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں
Verse 29
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا
Verse 30
ﯶﯷﯸﯹ
ﯺ
چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجده کر لیا
Verse 31
مگر ابلیس کے۔ کہ اس نے سجده کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے (صاف) انکار کر دیا
Verse 32
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟
Verse 33
وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے
Verse 34
ﭦﭧﭨﭩﭪ
ﭫ
فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے
Verse 35
ﭬﭭﭮﭯﭰﭱ
ﭲ
اور تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک
Verse 36
ﭳﭴﭵﭶﭷﭸ
ﭹ
کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں
Verse 37
ﭺﭻﭼﭽ
ﭾ
فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے
Verse 38
ﭿﮀﮁﮂ
ﮃ
روز مقرر کے وقت تک کی
Verse 39
(شیطان نے) کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی
Verse 40
ﮏﮐﮑﮒ
ﮓ
سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لیے گئے ہیں
Verse 41
ﮔﮕﮖﮗﮘ
ﮙ
ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راه ہے
Verse 42
میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں، لیکن ہاں جو گمراه لوگ تیری پیروی کریں
Verse 43
ﮦﮧﮨﮩ
ﮪ
یقیناً ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے
Verse 44
جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ بٹا ہوا ہے
Verse 45
ﯕﯖﯗﯘﯙ
ﯚ
پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
Verse 46
ﯛﯜﯝ
ﯞ
(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ
Verse 47
ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش وکینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے، وه بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے
Verse 48
نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وه وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے
Verse 49
میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں
Verse 50
ﯻﯼﯽﯾﯿ
ﰀ
اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں
Verse 51
ﰁﰂﰃﰄ
ﰅ
انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو
Verse 52
کہ جب انہوں نے ان کے پاس آکر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے
Verse 53
انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں
Verse 54
کہا، کیا اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟
Verse 55
انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں
Verse 56
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں
Verse 57
ﭽﭾﭿﮀﮁ
ﮂ
پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟
Verse 58
ﮃﮄﮅﮆﮇﮈ
ﮉ
انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
Verse 59
ﮊﮋﮌﮍﮎﮏ
ﮐ
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے
Verse 60
ﮑﮒﮓﮔﮕﮖ
ﮗ
سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی ره جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے
Verse 61
ﮘﮙﮚﮛﮜ
ﮝ
جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے
Verse 62
ﮞﮟﮠﮡ
ﮢ
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو
Verse 63
انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے
Verse 64
ﮫﮬﮭﮮ
ﮯ
ہم تو تیرے پاس (صریح) حق ﻻئے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے
Verse 65
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا
Verse 66
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی
Verse 67
ﯪﯫﯬﯭ
ﯮ
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے
Verse 68
ﯯﯰﯱﯲﯳﯴ
ﯵ
(لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو
Verse 69
ﯶﯷﯸﯹ
ﯺ
اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو
Verse 70
ﯻﯼﯽﯾﯿ
ﰀ
وه بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟
Verse 71
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں
Verse 72
ﭘﭙﭚﭛﭜ
ﭝ
تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے
Verse 73
ﭞﭟﭠ
ﭡ
پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا
Verse 74
بالﺂخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر برسائے
Verse 75
ﭫﭬﭭﭮﭯ
ﭰ
بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
Verse 76
ﭱﭲﭳ
ﭴ
یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔
Verse 77
ﭵﭶﭷﭸﭹ
ﭺ
اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے
Verse 78
ﭻﭼﭽﭾﭿ
ﮀ
اَیکَہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ﻇالم تھے
Verse 79
ﮁﮂﮃﮄﮅ
ﮆ
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں
Verse 80
ﮇﮈﮉﮊﮋ
ﮌ
اور حِجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
Verse 81
ﮍﮎﮏﮐﮑ
ﮒ
اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وه ان سے روگردانی ہی کرتے رہے
Verse 82
ﮓﮔﮕﮖﮗﮘ
ﮙ
یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر
Verse 83
ﮚﮛﮜ
ﮝ
آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا
Verse 84
ﮞﮟﮠﮡﮢﮣ
ﮤ
پس ان کی کسی تدبیروعمل نے انہیں کوئی فائده نہ دیا
Verse 85
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ ہی پیدا فرمایا ہے، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن وخوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے
Verse 86
ﯗﯘﯙﯚﯛ
ﯜ
یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے
Verse 87
یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے
Verse 88
آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں
Verse 89
ﯵﯶﯷﯸﯹ
ﯺ
اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے واﻻ ہوں
Verse 90
ﯻﯼﯽﯾ
ﯿ
جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا
Verse 91
ﭑﭒﭓﭔ
ﭕ
جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے
Verse 92
ﭖﭗﭘ
ﭙ
قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے
Verse 93
ﭚﭛﭜ
ﭝ
ہر اس چیز کی جو وه کرتے تھے
Verse 94
ﭞﭟﭠﭡﭢﭣ
ﭤ
پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جارہا ہے کھول کر سنا دیجئے! اور مشرکوں سے منھ پھیر لیجئے
Verse 95
ﭥﭦﭧ
ﭨ
آپ سے جو لوگ مسخراپن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں
Verse 96
جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا
Verse 97
ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے
Verse 98
ﭻﭼﭽﭾﭿﮀ
ﮁ
آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجده کرنے والوں میں شامل ہو جائیں
Verse 99
ﮂﮃﮄﮅﮆ
ﮇ
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے
تقدم القراءة