محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ طہ کا ترجمہ
Verse 1
ﭵ
ﭶ
طہ
طٰہٰ
Verse 2
ﭷﭸﭹﭺﭻ
ﭼ
ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے
Verse 3
ﭽﭾﭿﮀ
ﮁ
بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے
Verse 4
ﮂﮃﮄﮅﮆﮇ
ﮈ
اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے
Verse 5
ﮉﮊﮋﮌ
ﮍ
جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے
Verse 6
جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے
Verse 7
اگر تو اونچی بات کہے تو وه تو ہر ایک پوشیده، بلکہ پوشیده سے پوشیده تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے
Verse 8
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں
Verse 9
ﮭﮮﮯﮰ
ﮱ
تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟
Verse 10
جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں
Verse 11
ﯦﯧﯨﯩ
ﯪ
جب وه وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ!
Verse 12
یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے
Verse 13
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن
Verse 14
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ
Verse 15
قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو
Verse 16
پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا
Verse 17
ﭹﭺﭻﭼ
ﭽ
اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
Verse 18
جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں
Verse 19
ﮌﮍﮎ
ﮏ
فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے
Verse 20
ﮐﮑﮒﮓﮔ
ﮕ
ڈالتے ہی وه سانﭗ بن کر دوڑنے لگی
Verse 21
فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے
Verse 22
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزه ہے
Verse 23
ﮫﮬﮭﮮ
ﮯ
یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں
Verse 24
ﮰﮱﯓﯔﯕ
ﯖ
اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے
Verse 25
ﯗﯘﯙﯚﯛ
ﯜ
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے
Verse 26
ﯝﯞﯟ
ﯠ
اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے
Verse 27
ﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
اور میری زبان کی گره بھی کھول دے
Verse 28
ﯦﯧ
ﯨ
تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں
Verse 29
ﯩﯪﯫﯬﯭ
ﯮ
اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے
Verse 30
ﯯﯰ
ﯱ
یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو
Verse 31
ﯲﯳﯴ
ﯵ
تو اس سے میری کمر کس دے
Verse 32
ﯶﯷﯸ
ﯹ
اور اسے میرا شریک کار کر دے
Verse 33
ﯺﯻﯼ
ﯽ
تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں
Verse 34
ﯾﯿ
ﰀ
اور بکثرت تیری یاد کریں
Verse 35
ﰁﰂﰃﰄ
ﰅ
بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے
Verse 36
ﰆﰇﰈﰉﰊ
ﰋ
جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سواﻻت پورے کر دیئے گئے
Verse 37
ﰌﰍﰎﰏﰐ
ﰑ
ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے
Verse 38
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
جبکہ ہم نے تیری ماں کو وه الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے
Verse 39
کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے
Verse 40
(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے، اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه غمگین نہ ہو۔ اور تو نے ایک شخص کو مار ڈاﻻ تھا اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا، پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسیٰ! تو آیا
Verse 41
ﮖﮗ
ﮘ
اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا
Verse 42
اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا
Verse 43
ﮢﮣﮤﮥﮦ
ﮧ
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے
Verse 44
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے
Verse 45
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے
Verse 46
جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا
Verse 47
تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے
Verse 48
ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے
Verse 49
ﰉﰊﰋﰌ
ﰍ
فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟
Verse 50
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی
Verse 51
ﰘﰙﰚﰛﰜ
ﰝ
اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے
Verse 52
جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے
Verse 53
اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں
Verse 54
تم خود کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
Verse 55
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے
Verse 56
ﮇﮈﮉﮊﮋﮌ
ﮍ
ہم نے اسےاپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا
Verse 57
کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے
Verse 58
اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور ﻻئیں گے پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے، کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو
Verse 59
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں
Verse 60
ﮮﮯﮰﮱﯓﯔ
ﯕ
پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کیے پھر آگیا
Verse 61
موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تمہاری شامت آچکی، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا نہ باندھو کہ وه تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے، یاد رکھو وه کبھی کامیاب نہ ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑی
Verse 62
ﯧﯨﯩﯪﯫ
ﯬ
پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے
Verse 63
کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں
Verse 64
تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا
Verse 65
کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں
Verse 66
جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں
Verse 67
ﭫﭬﭭﭮﭯ
ﭰ
پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا
Verse 68
ﭱﭲﭳﭴﭵﭶ
ﭷ
ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا
Verse 69
اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا
Verse 70
اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے
Verse 71
فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے
Verse 72
انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے
Verse 73
ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پرایمان ﻻئے کہ وه ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناه،) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے واﻻ ہے
Verse 74
بات یہی ہے کہ جو بھی گنہگار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی
Verse 75
اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لئے بلند وباﻻ درجے ہیں
Verse 76
ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا
Verse 77
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر
Verse 78
فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے واﻻ تھا
Verse 79
ﭭﭮﭯﭰﭱ
ﭲ
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا
Verse 80
اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا
Verse 81
تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا
Verse 82
ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں
Verse 83
ﮟﮠﮡﮢﮣﮤ
ﮥ
اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کرکے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟
Verse 84
کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے
Verse 85
فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے
Verse 86
پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا
Verse 87
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے
Verse 88
پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے
Verse 89
کیا یہ گمراه لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وه تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے
Verse 90
اور ہارون (علیہ السلام) نےاس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمنٰ ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ
Verse 91
انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے
Verse 92
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراه ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا
Verse 93
ﮏﮐﮑﮒﮓ
ﮔ
کہ تو میرے پیچھے نہ آیا۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا
Verse 94
ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا
Verse 95
ﮩﮪﮫﮬ
ﮭ
موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے
Verse 96
اس نے جواب دیا کہ مجھے وه چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی
Verse 97
کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے
Verse 98
اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے
Verse 99
اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں
Verse 100
اس سے جو منھ پھیر لے گا وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا
Verse 101
جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے
Verse 102
جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے
Verse 103
ﭼﭽﭾﭿﮀﮁ
ﮂ
وه آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے
Verse 104
جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے
Verse 105
وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا
Verse 106
ﮘﮙﮚ
ﮛ
اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا
Verse 107
ﮜﮝﮞﮟﮠﮡ
ﮢ
جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ
Verse 108
جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا
Verse 109
اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
Verse 110
جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا
Verse 111
تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا
Verse 112
اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا
Verse 113
اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے
Verse 114
پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا
Verse 115
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا
Verse 116
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا
Verse 117
تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے
Verse 118
یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا
Verse 119
ﮐﮑﮒﮓﮔﮕ
ﮖ
اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے
Verse 120
لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈاﻻ، کہنے لگا کہ میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو
Verse 121
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا
Verse 122
ﯗﯘﯙﯚﯛﯜ
ﯝ
پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی
Verse 123
فرمایا، تم دونوں یہاں سےاتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا
Verse 124
اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے
Verse 125
وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا
Verse 126
(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے
Verse 127
ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے
Verse 128
کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
Verse 129
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا
Verse 130
پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے
Verse 131
اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے
Verse 132
اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے
Verse 133
انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں ﻻیا؟ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟
Verse 134
اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے
Verse 135
کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں
تقدم القراءة