سورة ص

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ ص کا ترجمہ

محمد جوناگڑھی - Urdu translation


ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا

اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے

کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے

ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے

کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں

یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں

یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں

یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے

ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا

اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے

ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی

اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے

آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا

ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں

اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے

اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا

اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے

جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے

(سنیے) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے

آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا

پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں

اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟

یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں

اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا

جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے

تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا

ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا

اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا

پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی
Verse 37

اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو
Verse 38

اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے

یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں

ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے

اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے

اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے

اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے

اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ

ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے

ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا

یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے

اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ تھے

یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے

(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں

جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں

اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی

یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا

بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں

یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے
Verse 56

دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے
Verse 57

یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ

یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں

وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے

وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے

اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے

کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں

کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں

جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے
Verse 67

آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے
Verse 68

جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو

مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے

میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں

جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے واﻻ ہوں

سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا

مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وه تھا کافروں میں سے

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے

اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے

ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا

اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے

کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے
Verse 80

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے
Verse 82

کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا
Verse 83

بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں
Verse 84

فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں

کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں

یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے
Verse 88

یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے
تقدم القراءة