محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ قلم کا ترجمہ
Verse 1
ﮉﮊﮋﮌﮍ
ﮎ
قلم
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں
Verse 2
ﮏﮐﮑﮒﮓ
ﮔ
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے
Verse 3
ﮕﮖﮗﮘﮙ
ﮚ
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے
Verse 4
ﮛﮜﮝﮞ
ﮟ
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
Verse 5
ﮠﮡ
ﮢ
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے
Verse 6
ﮣﮤ
ﮥ
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے
Verse 7
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے
Verse 8
ﯓﯔﯕ
ﯖ
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان
Verse 9
ﯗﯘﯙﯚ
ﯛ
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں
Verse 10
ﯜﯝﯞﯟﯠ
ﯡ
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ
Verse 11
ﯢﯣﯤ
ﯥ
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور
Verse 12
ﯦﯧﯨﯩ
ﯪ
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار
Verse 13
ﯫﯬﯭﯮ
ﯯ
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو
Verse 14
ﯰﯱﯲﯳﯴ
ﯵ
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے
Verse 15
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں
Verse 16
ﯾﯿﰀ
ﰁ
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے
Verse 17
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے
Verse 18
ﭜﭝ
ﭞ
اور انشاءاللہ نہ کہا
Verse 19
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے
Verse 20
ﭧﭨ
ﭩ
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
Verse 21
ﭪﭫ
ﭬ
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں
Verse 22
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو
Verse 23
ﭵﭶﭷ
ﭸ
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے
Verse 24
ﭹﭺﭻﭼﭽﭾ
ﭿ
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے
Verse 25
ﮀﮁﮂﮃ
ﮄ
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے
Verse 26
ﮅﮆﮇﮈﮉ
ﮊ
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے
Verse 27
ﮋﮌﮍ
ﮎ
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی
Verse 28
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟
Verse 29
ﮗﮘﮙﮚﮛﮜ
ﮝ
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے
Verse 30
ﮞﮟﮠﮡﮢ
ﮣ
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے
Verse 31
ﮤﮥﮦﮧﮨ
ﮩ
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے
Verse 32
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں
Verse 33
یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی
Verse 34
ﯡﯢﯣﯤﯥﯦ
ﯧ
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں
Verse 35
ﯨﯩﯪ
ﯫ
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے
Verse 36
ﯬﯭﯮﯯ
ﯰ
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
Verse 37
ﯱﯲﯳﯴﯵ
ﯶ
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
Verse 38
ﯷﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
Verse 39
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو
Verse 40
ﰊﰋﰌﰍ
ﰎ
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟
Verse 41
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں
Verse 42
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے
Verse 43
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے
Verse 44
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا
Verse 45
ﭪﭫﭬﭭﭮﭯ
ﭰ
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
Verse 46
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں
Verse 47
ﭹﭺﭻﭼﭽ
ﭾ
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں
Verse 48
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی
Verse 49
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا
Verse 50
ﮖﮗﮘﮙﮚ
ﮛ
اسے اس کے رب نے پھر نوازا اور اسے نیک کاروں میں کر دیا
Verse 51
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے
Verse 52
ﮩﮪﮫﮬﮭ
ﮮ
در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے
تقدم القراءة