سورة الشعراء

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ شعراء کا ترجمہ

محمد جوناگڑھی - Urdu translation


ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں

اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے

ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں

کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟

اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا

قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں

اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے میری زبان چل نہیں رہی پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج

اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں

جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں

تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں

کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟ اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟

پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا

پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا

مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو

فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے

فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو

فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟

آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی

اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا

فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے

یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو

ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے
Verse 37

جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں

پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے

اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟

تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں

فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو

انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے

اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا
Verse 46

یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے
Verse 47

اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے
Verse 48

یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر

فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی

اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے
Verse 54

کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے
Verse 55

اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں
Verse 56

اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے
Verse 57

بالﺂخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے
Verse 58

اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا

اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا
Verse 60

پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے

پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے

موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا
Verse 64

اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا

اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی
Verse 66

پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا

اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
Verse 69

انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟

انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں

آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
Verse 73

یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں

انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا

آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی ہے جنہیں تم پوج رہے ہو
Verse 76

تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں

بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے
Verse 78

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے
Verse 80

اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے
Verse 81

اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا

اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا

اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے

مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے

اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا
Verse 87

اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر

لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے
Verse 90

اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی
Verse 91

اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں
Verse 94

پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے
Verse 95

اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر بھی، وہاں
Verse 96

آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے
Verse 98

جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے
Verse 99

اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا
Verse 100

اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں
Verse 101

اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست

اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے

یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں
Verse 104

یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے

جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
Verse 107

سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں
Verse 108

پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے
Verse 110

پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو

قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے

آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟
Verse 114

میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں

انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا
Verse 117

آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی
Verse 120

بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا

یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں
Verse 122

اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ
Verse 123

عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا

جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 126

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!

میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے
Verse 128

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو
Verse 129

اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے
Verse 130

اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو
Verse 131

اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو
Verse 132

اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو
Verse 133

اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے
Verse 134

باغات سے اور چشموں سے

مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے

انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے
Verse 138

اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے

چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے
Verse 141

ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟
Verse 143

میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں
Verse 144

تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو
Verse 146

کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے
Verse 147

یعنی ان باغوں اور ان چشموں
Verse 148

اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں
Verse 149

اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو
Verse 150

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 151

بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاؤ

جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
Verse 153

وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے

آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری

(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا
Verse 157

پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے
Verse 159

اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے

ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
Verse 162

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
Verse 163

پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے
Verse 165

کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے

انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا
Verse 168

آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں
Verse 169

میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں
Verse 170

پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا
Verse 171

بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی
Verse 172

پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا

اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا
Verse 175

بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
Verse 176

اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا

جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
Verse 178

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
Verse 179

اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو
Verse 182

اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو

لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو
Verse 184

اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے
Verse 185

انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے

اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں
Verse 188

کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا
Verse 191

اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
Verse 192

اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے
Verse 193

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
Verse 194

آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں
Verse 196

اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے

کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
Verse 198

اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے

پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے
Verse 200

اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے

وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے
Verse 202

پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا
Verse 203

اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟
Verse 204

پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
Verse 205

اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا
Verse 206

پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے

تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا

ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے
Verse 209

نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں
Verse 211

نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے
Verse 212

بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں

پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے
Verse 214

اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے

اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے

اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو
Verse 217

اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ
Verse 218

جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے
Verse 219

اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی
Verse 220

وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے
Verse 223

(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں
Verse 224

شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں

سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں
تقدم القراءة