محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ شعراء کا ترجمہ
Verse 1
ﭑ
ﭒ
شعراء
طٰسم
Verse 2
ﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں
Verse 3
ﭘﭙﭚﭛﭜﭝ
ﭞ
ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے
Verse 4
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں
Verse 5
اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے
Verse 6
ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں
Verse 7
کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟
Verse 8
بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں
Verse 9
ﮖﮗﮘﮙﮚ
ﮛ
اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے
Verse 10
اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا
Verse 11
ﮥﮦﮧﮨﮩ
ﮪ
قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے
Verse 12
ﮫﮬﮭﮮﮯﮰ
ﮱ
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں
Verse 13
اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے میری زبان چل نہیں رہی پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج
Verse 14
ﯜﯝﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں
Verse 15
جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں
Verse 16
تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں
Verse 17
ﯵﯶﯷﯸﯹ
ﯺ
کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے
Verse 18
فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟ اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟
Verse 19
پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے
Verse 20
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا
Verse 21
پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا
Verse 22
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
Verse 23
ﭭﭮﭯﭰﭱ
ﭲ
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟
Verse 24
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو
Verse 25
ﭾﭿﮀﮁﮂ
ﮃ
فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟
Verse 26
ﮄﮅﮆﮇﮈ
ﮉ
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے
Verse 27
فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے
Verse 28
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو
Verse 29
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا
Verse 30
ﮦﮧﮨﮩﮪ
ﮫ
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟
Verse 31
فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر
Verse 32
ﯕﯖﯗﯘﯙﯚ
ﯛ
آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی
Verse 33
ﯜﯝﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا
Verse 34
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے
Verse 35
یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو
Verse 36
ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے
Verse 37
ﯼﯽﯾﯿ
ﰀ
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں
Verse 38
ﰁﰂﰃﰄﰅ
ﰆ
پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے
Verse 39
ﰇﰈﰉﰊﰋ
ﰌ
اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟
Verse 40
تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں
Verse 41
جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟
Verse 42
ﭦﭧﭨﭩﭪﭫ
ﭬ
فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے
Verse 43
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو
Verse 44
انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے
Verse 45
اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا
Verse 46
ﮈﮉﮊ
ﮋ
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے
Verse 47
ﮌﮍﮎﮏ
ﮐ
اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے
Verse 48
ﮑﮒﮓ
ﮔ
یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر
Verse 49
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
Verse 50
انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی
Verse 51
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا
Verse 52
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے
Verse 53
ﯭﯮﯯﯰﯱ
ﯲ
فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا
Verse 54
ﯳﯴﯵﯶ
ﯷ
کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے
Verse 55
ﯸﯹﯺ
ﯻ
اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں
Verse 56
ﯼﯽﯾ
ﯿ
اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے
Verse 57
ﰀﰁﰂﰃ
ﰄ
بالﺂخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے
Verse 58
ﰅﰆﰇ
ﰈ
اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا
Verse 59
ﰉﰊﰋﰌﰍ
ﰎ
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا
Verse 60
ﰏﰐ
ﰑ
پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے
Verse 61
پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے
Verse 62
موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا
Verse 63
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا
Verse 64
ﭱﭲﭳ
ﭴ
اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا
Verse 65
ﭵﭶﭷﭸﭹ
ﭺ
اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی
Verse 66
ﭻﭼﭽ
ﭾ
پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا
Verse 67
یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں
Verse 68
ﮉﮊﮋﮌﮍ
ﮎ
اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
Verse 69
ﮏﮐﮑﮒ
ﮓ
انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو
Verse 70
ﮔﮕﮖﮗﮘﮙ
ﮚ
جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
Verse 71
ﮛﮜﮝﮞﮟﮠ
ﮡ
انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں
Verse 72
ﮢﮣﮤﮥﮦ
ﮧ
آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
Verse 73
ﮨﮩﮪﮫ
ﮬ
یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں
Verse 74
ﮭﮮﮯﮰﮱﯓ
ﯔ
انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا
Verse 75
ﯕﯖﯗﯘﯙ
ﯚ
آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی ہے جنہیں تم پوج رہے ہو
Verse 76
ﯛﯜﯝ
ﯞ
تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں
Verse 77
ﯟﯠﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے
Verse 78
ﯦﯧﯨﯩ
ﯪ
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے
Verse 79
ﯫﯬﯭﯮ
ﯯ
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے
Verse 80
ﯰﯱﯲﯳ
ﯴ
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے
Verse 81
ﯵﯶﯷﯸ
ﯹ
اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا
Verse 82
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا
Verse 83
ﰃﰄﰅﰆﰇﰈ
ﰉ
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے
Verse 84
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ
Verse 85
ﭘﭙﭚﭛﭜ
ﭝ
مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے
Verse 86
ﭞﭟﭠﭡﭢﭣ
ﭤ
اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا
Verse 87
ﭥﭦﭧﭨ
ﭩ
اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر
Verse 88
ﭪﭫﭬﭭﭮﭯ
ﭰ
جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی
Verse 89
ﭱﭲﭳﭴﭵﭶ
ﭷ
لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے
Verse 90
ﭸﭹﭺ
ﭻ
اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی
Verse 91
ﭼﭽﭾ
ﭿ
اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی
Verse 92
ﮀﮁﮂﮃﮄﮅ
ﮆ
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
Verse 93
جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں
Verse 94
ﮏﮐﮑﮒ
ﮓ
پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے
Verse 95
ﮔﮕﮖ
ﮗ
اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر بھی، وہاں
Verse 96
ﮘﮙﮚﮛ
ﮜ
آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے
Verse 97
ﮝﮞﮟﮠﮡﮢ
ﮣ
کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے
Verse 98
ﮤﮥﮦﮧ
ﮨ
جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے
Verse 99
ﮩﮪﮫﮬ
ﮭ
اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا
Verse 100
ﮮﮯﮰﮱ
ﯓ
اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں
Verse 101
ﯔﯕﯖ
ﯗ
اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست
Verse 102
اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے
Verse 103
یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں
Verse 104
ﯪﯫﯬﯭﯮ
ﯯ
یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے
Verse 105
ﯰﯱﯲﯳ
ﯴ
قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا
Verse 106
جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
Verse 107
ﯽﯾﯿﰀ
ﰁ
سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں
Verse 108
ﰂﰃﰄ
ﰅ
پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے
Verse 109
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے
Verse 110
ﰓﰔﰕ
ﰖ
پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو
Verse 111
ﰗﰘﰙﰚﰛﰜ
ﰝ
قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے
Verse 112
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟
Verse 113
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تمہیں شعور ہو تو
Verse 114
ﭡﭢﭣﭤ
ﭥ
میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں
Verse 115
ﭦﭧﭨﭩﭪ
ﭫ
میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں
Verse 116
انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا
Verse 117
ﭵﭶﭷﭸﭹ
ﭺ
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
Verse 118
پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے
Verse 119
ﮅﮆﮇﮈﮉﮊ
ﮋ
چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی
Verse 120
ﮌﮍﮎﮏ
ﮐ
بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا
Verse 121
یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں
Verse 122
ﮛﮜﮝﮞﮟ
ﮠ
اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ
Verse 123
ﮡﮢﮣ
ﮤ
عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
Verse 124
جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 125
ﮭﮮﮯﮰ
ﮱ
میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں
Verse 126
ﯓﯔﯕ
ﯖ
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
Verse 127
میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے
Verse 128
ﯤﯥﯦﯧﯨ
ﯩ
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو
Verse 129
ﯪﯫﯬﯭ
ﯮ
اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے
Verse 130
ﯯﯰﯱﯲ
ﯳ
اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو
Verse 131
ﯴﯵﯶ
ﯷ
اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو
Verse 132
ﯸﯹﯺﯻﯼ
ﯽ
اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو
Verse 133
ﯾﯿﰀ
ﰁ
اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے
Verse 134
ﰂﰃ
ﰄ
باغات سے اور چشموں سے
Verse 135
ﰅﰆﰇﰈﰉﰊ
ﰋ
مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے
Verse 136
انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے
Verse 137
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے
Verse 138
ﭗﭘﭙ
ﭚ
اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے
Verse 139
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے
Verse 140
ﭨﭩﭪﭫﭬ
ﭭ
بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان
Verse 141
ﭮﭯﭰ
ﭱ
ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
Verse 142
ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟
Verse 143
ﭺﭻﭼﭽ
ﭾ
میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں
Verse 144
ﭿﮀﮁ
ﮂ
تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو
Verse 145
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے
Verse 146
ﮐﮑﮒﮓﮔ
ﮕ
کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے
Verse 147
ﮖﮗﮘ
ﮙ
یعنی ان باغوں اور ان چشموں
Verse 148
ﮚﮛﮜﮝ
ﮞ
اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں
Verse 149
ﮟﮠﮡﮢﮣ
ﮤ
اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو
Verse 150
ﮥﮦﮧ
ﮨ
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 151
ﮩﮪﮫﮬ
ﮭ
بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاؤ
Verse 152
ﮮﮯﮰﮱﯓﯔ
ﯕ
جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
Verse 153
ﯖﯗﯘﯙﯚ
ﯛ
وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے
Verse 154
تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ
Verse 155
آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری
Verse 156
(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا
Verse 157
ﯺﯻﯼ
ﯽ
پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے
Verse 158
اور عذاب نے انہیں آ دبوچا۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Verse 159
ﰋﰌﰍﰎﰏ
ﰐ
اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے
Verse 160
ﭑﭒﭓﭔ
ﭕ
قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا
Verse 161
ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
Verse 162
ﭞﭟﭠﭡ
ﭢ
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
Verse 163
ﭣﭤﭥ
ﭦ
پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 164
میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے
Verse 165
ﭴﭵﭶﭷ
ﭸ
کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو
Verse 166
اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے
Verse 167
انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا
Verse 168
ﮏﮐﮑﮒﮓ
ﮔ
آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں
Verse 169
ﮕﮖﮗﮘﮙ
ﮚ
میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں
Verse 170
ﮛﮜﮝ
ﮞ
پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا
Verse 171
ﮟﮠﮡﮢ
ﮣ
بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی
Verse 172
ﮤﮥﮦ
ﮧ
پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا
Verse 173
اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا
Verse 174
یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے
Verse 175
ﯛﯜﯝﯞﯟ
ﯠ
بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
Verse 176
ﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
Verse 177
ﯦﯧﯨﯩﯪﯫ
ﯬ
جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
Verse 178
ﯭﯮﯯﯰ
ﯱ
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
Verse 179
ﯲﯳﯴ
ﯵ
اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو
Verse 180
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے
Verse 181
ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو
Verse 182
ﰋﰌﰍ
ﰎ
اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو
Verse 183
لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو
Verse 184
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے
Verse 185
ﭗﭘﭙﭚﭛ
ﭜ
انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے
Verse 186
اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں
Verse 187
اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے
Verse 188
ﭱﭲﭳﭴﭵ
ﭶ
کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
Verse 189
چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا
Verse 190
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے
Verse 191
ﮍﮎﮏﮐﮑ
ﮒ
اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
Verse 192
ﮓﮔﮕﮖ
ﮗ
اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے
Verse 193
ﮘﮙﮚﮛ
ﮜ
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
Verse 194
ﮝﮞﮟﮠﮡ
ﮢ
آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں
Verse 195
ﮣﮤﮥ
ﮦ
صاف عربی زبان میں ہے
Verse 196
ﮧﮨﮩﮪ
ﮫ
اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے
Verse 197
کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
Verse 198
ﯗﯘﯙﯚﯛ
ﯜ
اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے
Verse 199
ﯝﯞﯟﯠﯡﯢ
ﯣ
پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے
Verse 200
ﯤﯥﯦﯧﯨ
ﯩ
اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے
Verse 201
وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے
Verse 202
ﯲﯳﯴﯵﯶ
ﯷ
پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا
Verse 203
ﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟
Verse 204
ﯽﯾ
ﯿ
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
Verse 205
ﰀﰁﰂﰃ
ﰄ
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا
Verse 206
ﰅﰆﰇﰈﰉ
ﰊ
پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے
Verse 207
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖ
ﭗ
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا
Verse 208
ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے
Verse 209
ﭠﭡﭢﭣ
ﭤ
نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں
Verse 210
ﭥﭦﭧﭨ
ﭩ
اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے
Verse 211
ﭪﭫﭬﭭﭮ
ﭯ
نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے
Verse 212
ﭰﭱﭲﭳ
ﭴ
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں
Verse 213
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے
Verse 214
ﭿﮀﮁ
ﮂ
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے
Verse 215
ﮃﮄﮅﮆﮇﮈ
ﮉ
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے
Verse 216
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو
Verse 217
ﮒﮓﮔﮕ
ﮖ
اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ
Verse 218
ﮗﮘﮙﮚ
ﮛ
جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے
Verse 219
ﮜﮝﮞ
ﮟ
اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی
Verse 220
ﮠﮡﮢﮣ
ﮤ
وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے
Verse 221
ﮥﮦﮧﮨﮩﮪ
ﮫ
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں
Verse 222
ﮬﮭﮮﮯﮰ
ﮱ
وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں
Verse 223
ﯓﯔﯕﯖ
ﯗ
(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں
Verse 224
ﯘﯙﯚ
ﯛ
شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں
Verse 225
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں
Verse 226
ﯤﯥﯦﯧﯨ
ﯩ
اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں
Verse 227
سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں
تقدم القراءة