محمد جوناگڑھی - Urdu translation سے الأردية میں سورۃ انفال کا ترجمہ
Verse 1
انفال
یہ لوگ آپ سے غنیمتو ں کا حکم دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے! کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو
Verse 2
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
Verse 3
ﭹﭺﭻﭼﭽﭾ
ﭿ
جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں
Verse 4
سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے
Verse 5
جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی
Verse 6
وه اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ﻇہور ہوگیا تھا آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتا ہے اور وه دیکھ رہے ہیں
Verse 7
اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے
Verse 8
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں
Verse 9
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے
Verse 10
اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکمت واﻻ ہے
Verse 11
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے پاؤں جما دے
Verse 12
اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو
Verse 13
یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے
Verse 14
ﮱﯓﯔﯕﯖﯗ
ﯘ
سو یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے
Verse 15
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا
Verse 16
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناه لینے آتا ہو وه مستثنیٰ ہے۔ باقی اور جو ایسا کرے گا وه اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا وه بہت ہی بری جگہ ہے
Verse 17
سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
Verse 18
ﭩﭪﭫﭬﭭﭮ
ﭯ
(ایک بات تو) یہ ہوئی اور (دوسری بات یہ ہے) اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا
Verse 19
اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وه فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا اور اگر باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے نہایت خوب ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیاده ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے
Verse 20
اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے
Verse 21
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حاﻻنکہ وه سنتے (سناتے کچھ) نہیں
Verse 22
بےشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے
Verse 23
اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے
Verse 24
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے
Verse 25
اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے
Verse 26
اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو
Verse 27
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاﻇت چیزوں میں خیانت مت کرو
Verse 28
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے
Verse 29
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناه دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
Verse 30
اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے
Verse 31
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں، یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں
Verse 32
اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے
Verse 33
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں
Verse 34
اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سزا نہ دے حاﻻنکہ وه لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں، جب کہ وه لوگ اس مسجد کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور اشخاص نہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
Verse 35
اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزه چکھو
Verse 36
بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعﺚ حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا
Verse 37
تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے۔ ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں
Verse 38
آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے
Verse 39
اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیده نہ رہے۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان اعمال کو خوب دیکھتا ہے
Verse 40
اور اگر روگردانی کریں تو یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارا کار ساز ہے وه بہت اچھا کار ساز ہے اور بہت اچھا مدد گار ہے
Verse 41
جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا، اگر تم اللہ پر ایمان ﻻئے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا ہے، جو دن حق وباطل کی جدائی کا تھا جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
Verse 42
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
Verse 43
جب کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے تیرے خواب میں ان کی تعداد کم دکھائی، اگر ان کی زیادتی دکھاتا تو تم بزدل ہو جاتے اور اس کام کے بارے میں آپس میں اختلاف کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے بچا لیا، وه دلوں کے بھیدوں سے خوب آگاه ہے
Verse 44
جبکہ اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں
Verse 45
اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ﺛابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو
Verse 46
اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
Verse 47
ان لوگوں جیسے نہ بنو جو اتراتے ہوئے اور لوگوں میں خود نمائی کرتے ہوئے اپنے گھروں سے چلے اور اللہ کی راه سے روکتے تھے، جو کچھ وه کر رہے ہیں اللہ اسے گھیر لینے واﻻ ہے
Verse 48
جبکہ ان کے اعمال کو شیطان انہیں زینت دار دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی آج تم پر غالب نہیں آسکتا، میں خود بھی تمہارا حمایتی ہوں لیکن جب دونوں جماعتیں نمودار ہوئیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا میں تم سے بری ہوں۔ میں وه دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے
Verse 49
جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وه بھی جن کے دلوں میں روگ تھا کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے
Verse 50
کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منھ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو
Verse 51
یہ بسبب ان کاموں کے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے ہی بھیج رکھا ہے بیشک اللہ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
Verse 52
مثل فرعونیوں کے حال کے اور ان سے اگلوں کے، کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا پس اللہ نے ان کے گناہوں کے باعﺚ انہیں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً قوت واﻻ اور سخت عذاب واﻻ ہے
Verse 53
یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی اور یہ کہ اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے
Verse 54
مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعﺚ ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ﻇالم تھے
Verse 55
تمام جانداروں سے بدتر، اللہ کے نزدیک وه ہیں جو کفر کریں، پھر وه ایمان نہ ﻻئیں
Verse 56
جن سے آپ نے عہد وپیمان کر لیا پھر بھی وه اپنے عہد وپیمان کو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اور بالکل پرہیز نہیں کرتے
Verse 57
پس جب کبھی تو لڑائی میں ان پر غالب آجائے انہیں ایسی مار مار کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں، ہو سکتا ہے کہ وه عبرت حاصل کریں
Verse 58
اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈر ہو تو برابری کی حالت میں ان کا عہدنامہ توڑ دے، اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا
Verse 59
کافر یہ خیال نہ کریں کہ وه بھاگ نکلے۔ یقیناً وه عاجز نہیں کر سکتے
Verse 60
تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے وه تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا
Verse 61
اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے
Verse 62
اگر وه تجھ سے دغا بازی کرنا چاہیں گے تو اللہ تجھے کافی ہے، اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے
Verse 63
ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں واﻻ ہے
Verse 64
اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں
Verse 65
اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے، تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر تم میں ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس واسطے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں
Verse 66
اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتاہے، وه خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وه دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو وه اللہ کے حکم سے دو ہزار پرغالب رہیں گے، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
Verse 67
نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے
Verse 68
اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی
Verse 69
پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور ورحیم ہے
Verse 70
اے نبی! اپنے ہاتھ تلے کے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا اور پھر گناه بھی معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے ہی
Verse 71
اور اگر وه تجھ سے خیانت کا خیال کریں گے تو یہ تو اس سے پہلے خود اللہ کی خیانت کر چکے ہیں آخر اس نے انہیں گرفتار کرا دیا، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناه دی اور مدد کی، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو ایمان تو ﻻئے ہیں لیکن ہجرت نہیں کی تمہارے لئے ان کی کچھ بھی رفاقت نہیں جب تک کہ وه ہجرت نہ کریں۔ ہاں اگر وه تم سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے، سوائے ان لوگوں کے کہ تم میں اور ان میں عہد وپیمان ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ خوب دیکھتا ہے
Verse 73
کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا
Verse 74
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناه دی اور مدد پہنچائی، یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی
Verse 75
اور جو لوگ اس کے بعد ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیاده نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے
تقدم القراءة