ترجمة معاني سورة غافر باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation
ﰡ
آية رقم 1
ﭥ
ﭦ
غافر
حٰم
آية رقم 2
ﭧﭨﭩﭪﭫﭬ
ﭭ
اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے
آية رقم 3
گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے
آية رقم 4
اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے
آية رقم 5
قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی
آية رقم 6
اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا کہ وه دوزخی ہیں
آية رقم 7
عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے
آية رقم 8
اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے
آية رقم 9
انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے
آية رقم 10
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں یہ آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونااس سے بہت زیاده ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے
آية رقم 11
وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟
آية رقم 12
یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے
آية رقم 13
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لیےآسمان سے روزی اتارتا ہے، نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں
آية رقم 14
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں
آية رقم 15
بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے
آية رقم 16
جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی
آية رقم 17
آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے
آية رقم 18
اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی
آية رقم 19
ﭲﭳﭴﭵﭶﭷ
ﭸ
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے
آية رقم 20
اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے
آية رقم 21
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا
آية رقم 22
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے
آية رقم 23
ﯜﯝﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا
آية رقم 24
فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے
آية رقم 25
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے
آية رقم 26
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے
آية رقم 27
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا
آية رقم 28
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں
آية رقم 29
اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ فرعون بوﻻ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں
آية رقم 30
اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا
آية رقم 31
جیسے امت نو ح اور عاد وﺛمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)، اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ﻇلم کرنا نہیں چاہتا
آية رقم 32
ﯶﯷﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کابھی ڈر ہے
آية رقم 33
جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، تمہیں اللہ سے بچانے واﻻ کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراه کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں
آية رقم 34
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو
آية رقم 35
جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے
آية رقم 36
فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں
آية رقم 37
(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں اور راه سے روک دیا گیا اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی
آية رقم 38
اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا
آية رقم 39
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے
آية رقم 40
جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے
آية رقم 41
اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو
آية رقم 42
تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہوکہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں
آية رقم 43
یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں
آية رقم 44
پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے
آية رقم 45
پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا
آية رقم 46
آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو
آية رقم 47
اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے (جن کے یہ تابع تھے) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟
آية رقم 48
وه بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے
آية رقم 49
اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے
آية رقم 50
وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے
آية رقم 51
یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانیٴ دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے
آية رقم 52
جس دن ﻇالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا
آية رقم 53
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ عطا فرمایا اور بنو اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا
آية رقم 54
ﮆﮇﮈﮉ
ﮊ
کہ وه ہدایت و نصیحت تھی عقل مندوں کے لیے
آية رقم 55
پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی معافی مانگتا ره اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره
آية رقم 56
جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند کے نہ ہونے کے آیات الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وه اس تک پہنچنے والے ہی نہیں، سو تو اللہ کی پناه مانگتا ره بیشک وه پورا سننے واﻻ اور سب سے زیاده دیکھنے واﻻ ہے
آية رقم 57
آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) اکثر لوگ بےعلم ہیں
آية رقم 58
اندھا اور بینا برابر نہیں نہ وه لوگ جو ایمان ﻻئے اور بھلے کام کیے بدکاروں کے (برابر ہیں)، تم (بہت) کم نصیحت حاصل کر رہے ہو
آية رقم 59
قیامت بالیقین اور بےشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں ﻻتے
آية رقم 60
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے
آية رقم 61
اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے رات بنادی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور دن کو دیکھنے واﻻ بنا دیا، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل وکرم واﻻ ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے
آية رقم 62
یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو
آية رقم 63
اسی طرح وه لوگ بھی پھیرے جاتے رہے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے
آية رقم 64
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمده عمده چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں واﻻ اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے واﻻ
آية رقم 65
وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے
آية رقم 66
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں
آية رقم 67
وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو
آية رقم 68
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وه کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وه ہو جاتا ہے
آية رقم 69
کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، وه کہاں پھیر دیے جاتے ہیں
آية رقم 70
جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی
آية رقم 71
ﮖﮗﮘﮙﮚﮛ
ﮜ
جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے
آية رقم 72
ﮝﮞﮟﮠﮡﮢ
ﮣ
کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے
آية رقم 73
پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جنہیں تم شریک کرتے تھے وه کہاں ہیں۔
آية رقم 74
جو اللہ کے سوا تھے وه کہیں گے کہ وه تو ہم سے بہک گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو اسی طرح گمراه کرتا ہے
آية رقم 75
یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے۔ اور (بےجا) اتراتے پھرتے تھے
آية رقم 76
(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والے کی
آية رقم 77
پس آپ صبر کریں اللہ کا وعده قطعاً سچا ہے، انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے
آية رقم 78
یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے
آية رقم 79
اللہ وه ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
آية رقم 80
اور بھی تمہارے لیے ان میں بہت سے نفع ہیں اور تاکہ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی حاجتوں کو انہی پر سواری کر کے تم حاصل کر لو اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر سوار کیے جاتے ہو
آية رقم 81
ﮋﮌﮍﮎﮏﮐ
ﮑ
اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جارہا ہے، پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کے منکر بنتے رہو گے
آية رقم 82
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا؟ جو ان سے تعداد میں زیاده تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں، ان کے کیے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائده نہیں پہنچایا
آية رقم 83
پس جب بھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے، بالﺂخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وه ان پر الٹ پڑی
آية رقم 84
ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان ﻻئے اور جن جن کو ہم اس کا شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا
آية رقم 85
لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آ رہا ہے۔ اور اس جگہ کافر خراب وخستہ ہوئے
تقدم القراءة