ترجمة معاني سورة طه باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

الترجمة الإنجليزية - صحيح انترناشونال
المنتدى الإسلامي
الترجمة الإنجليزية
الترجمة الفرنسية - المنتدى الإسلامي
نبيل رضوان
الترجمة الإسبانية
محمد عيسى غارسيا
الترجمة الإسبانية - المنتدى الإسلامي
الترجمة الإسبانية (أمريكا اللاتينية) - المنتدى الإسلامي
المنتدى الإسلامي
الترجمة البرتغالية
حلمي نصر
الترجمة الألمانية - بوبنهايم
عبد الله الصامت
الترجمة الألمانية - أبو رضا
أبو رضا محمد بن أحمد بن رسول
الترجمة الإيطالية
عثمان الشريف
الترجمة التركية - مركز رواد الترجمة
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة التركية - شعبان بريتش
شعبان بريتش
الترجمة التركية - مجمع الملك فهد
مجموعة من العلماء
الترجمة الإندونيسية - شركة سابق
شركة سابق
الترجمة الإندونيسية - المجمع
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الإندونيسية - وزارة الشؤون الإسلامية
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الفلبينية (تجالوج)
مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - دار الإسلام
فريق عمل اللغة الفارسية بموقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - حسين تاجي
حسين تاجي كله داري
الترجمة الأردية
محمد إبراهيم جوناكري
الترجمة البنغالية
أبو بكر محمد زكريا
الترجمة الكردية
حمد صالح باموكي
الترجمة البشتوية
زكريا عبد السلام
الترجمة البوسنية - كوركت
بسيم كوركورت
الترجمة البوسنية - ميهانوفيتش
محمد مهانوفيتش
الترجمة الألبانية
حسن ناهي
الترجمة الأوكرانية
ميخائيلو يعقوبوفيتش
الترجمة الصينية
محمد مكين الصيني
الترجمة الأويغورية
محمد صالح
الترجمة اليابانية
روايتشي ميتا
الترجمة الكورية
حامد تشوي
الترجمة الفيتنامية
حسن عبد الكريم
الترجمة الكازاخية - مجمع الملك فهد
خليفة الطاي
الترجمة الكازاخية - جمعية خليفة ألطاي
جمعية خليفة الطاي الخيرية
الترجمة الأوزبكية - علاء الدين منصور
علاء الدين منصور
الترجمة الأوزبكية - محمد صادق
محمد صادق محمد
الترجمة الأذرية
علي خان موساييف
الترجمة الطاجيكية - عارفي
فريق متخصص مكلف من مركز رواد الترجمة بالشراكة مع موقع دار الإسلام
الترجمة الطاجيكية
خوجه ميروف خوجه مير
الترجمة الهندية
مولانا عزيز الحق العمري
الترجمة المليبارية
عبد الحميد حيدر المدني
الترجمة الغوجراتية
رابيلا العُمري
الترجمة الماراتية
محمد شفيع أنصاري
الترجمة التلجوية
مولانا عبد الرحيم بن محمد
الترجمة التاميلية
عبد الحميد الباقوي
الترجمة السنهالية
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الأسامية
رفيق الإسلام حبيب الرحمن
الترجمة الخميرية
جمعية تطوير المجتمع الاسلامي الكمبودي
الترجمة النيبالية
جمعية أهل الحديث المركزية
الترجمة التايلاندية
مجموعة من جمعية خريجي الجامعات والمعاهد بتايلاند
الترجمة الصومالية
محمد أحمد عبدي
الترجمة الهوساوية
الترجمة الأمهرية
محمد صادق
الترجمة اليورباوية
أبو رحيمة ميكائيل أيكوييني
الترجمة الأورومية
الترجمة التركية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفرنسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإندونيسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفيتنامية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة البوسنية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإيطالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفلبينية (تجالوج) للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفارسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
Dr. Ghali - English translation
Muhsin Khan - English translation
Pickthall - English translation
Yusuf Ali - English translation
Azerbaijani - Azerbaijani translation
Sadiq and Sani - Amharic translation
Farsi - Persian translation
Finnish - Finnish translation
Muhammad Hamidullah - French translation
Korean - Korean translation
Maranao - Maranao translation
Abdul Hameed and Kunhi Mohammed - Malayalam translation
Salomo Keyzer - Flemish (Dutch) translation
Norwegian - Norwegian translation
Samir El - Portuguese translation
Polish - Polish translation
Romanian - Romanian translation
Elmir Kuliev - Russian translation
Albanian - Albanian translation
Tatar - Tatar translation
Japanese - Japanese translation
محمد جوناگڑھی - Urdu translation
Ma Jian - Chinese translation
Turkish - Turkish translation
King Fahad Quran Complex - Thai translation
Ali Muhsin Al - Swahili translation
Abdullah Muhammad Basmeih - Malay translation
Hamza Roberto Piccardo - Italian translation
Indonesian - Indonesian translation
Bubenheim & Elyas - German / Deutsch translation
Bosnian - Bosnian translation
Hasan Efendi Nahi - Albanian translation
Sherif Ahmeti - Albanian translation
Sahih International - English translation
Czech - Czech translation
Abul Ala Maududi(With tafsir) - English translation
Tajik - Tajik translation
Alikhan Musayev - Azerbaijani translation
Muhammad Saleh - Uighur; Uyghur translation
Abdul Haleem - English translation
Mufti Taqi Usmani - English translation
Muhammad Karakunnu and Vanidas Elayavoor - Malayalam translation
Sheikh Isa Garcia - Spanish; Castilian translation
Divehi - Divehi; Dhivehi; Maldivian translation
Abubakar Mahmoud Gumi - Hausa translation
Mahmud Muhammad Abduh - Somali translation
Knut Bernström - Swedish translation
Jan Trust Foundation - Tamil translation
Mykhaylo Yakubovych - Ukrainian translation
Uzbek - Uzbek translation
Diyanet Isleri - Turkish translation
Ministry of Awqaf, Egypt - Russian translation
Abu Adel - Russian translation
Burhan Muhammad - Kurdish translation
Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran - English translation
Dr. Mustafa Khattab - English translation
الترجمة الإنجليزية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الفرنسية - محمد حميد الله
الترجمة البوسنية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الصربية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة الألبانية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة اليابانية - سعيد ساتو
الترجمة الفيتنامية - مركز رواد الترجمة
الترجمة التاميلية - عمر شريف
الترجمة السواحلية - عبد الله محمد وناصر خميس
الترجمة اللوغندية - المؤسسة الإفريقية للتنمية
الترجمة الإنكو بامبارا - ديان محمد
الترجمة العبرية
الترجمة الإنجليزية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الروسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة البنغالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الصينية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة اليابانية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
ترجمة معاني القرآن الكريم - عادل صلاحي
عادل صلاحي

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 2

ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے
آية رقم 3

بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے
آية رقم 4

اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے

جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے
آية رقم 7

اگر تو اونچی بات کہے تو وه تو ہر ایک پوشیده، بلکہ پوشیده سے پوشیده تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے
آية رقم 9

تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟

جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں
آية رقم 11

جب وه وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ!

یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے
آية رقم 13

اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن

بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ

قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو

پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا
آية رقم 17

اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟

جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں
آية رقم 19

فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے
آية رقم 21

فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزه ہے
آية رقم 23

یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں
آية رقم 24

اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے
آية رقم 25

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے
آية رقم 26

اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے
آية رقم 27

اور میری زبان کی گره بھی کھول دے
آية رقم 28

تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں
آية رقم 29

اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے
آية رقم 30

یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو
آية رقم 31

تو اس سے میری کمر کس دے
آية رقم 32

اور اسے میرا شریک کار کر دے
آية رقم 33

تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں
آية رقم 34

اور بکثرت تیری یاد کریں
آية رقم 35

بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے
آية رقم 36

جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سواﻻت پورے کر دیئے گئے
آية رقم 37

ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے
آية رقم 38

جبکہ ہم نے تیری ماں کو وه الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے

کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے

(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے، اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه غمگین نہ ہو۔ اور تو نے ایک شخص کو مار ڈاﻻ تھا اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا، پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسیٰ! تو آیا
آية رقم 41

اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا
آية رقم 42

اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا
آية رقم 43

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے

دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے
آية رقم 46

جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا

تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے

ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے
آية رقم 49

فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟

جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی
آية رقم 51

اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے

جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے

اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں

تم خود کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے
آية رقم 56

ہم نے اسےاپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا
آية رقم 57

کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے

اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور ﻻئیں گے پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے، کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو
آية رقم 59

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں
آية رقم 60

پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کیے پھر آگیا

موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تمہاری شامت آچکی، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا نہ باندھو کہ وه تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے، یاد رکھو وه کبھی کامیاب نہ ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑی
آية رقم 62

پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے

کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں

تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا

جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں
آية رقم 67

پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا
آية رقم 68

ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا

اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا
آية رقم 70

اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے

فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے

انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے

ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پرایمان ﻻئے کہ وه ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناه،) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے واﻻ ہے

بات یہی ہے کہ جو بھی گنہگار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی

اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لئے بلند وباﻻ درجے ہیں

ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر
آية رقم 78

فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے واﻻ تھا
آية رقم 79

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا

اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا

تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا

ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں
آية رقم 83

اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کرکے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟

کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے

فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے

پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے

پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے

کیا یہ گمراه لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وه تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے

اور ہارون (علیہ السلام) نےاس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمنٰ ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ

انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے
آية رقم 92

موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراه ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا
آية رقم 93

کہ تو میرے پیچھے نہ آیا۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا

ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا
آية رقم 95

موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے

اس نے جواب دیا کہ مجھے وه چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی

کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے

اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے

اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں
آية رقم 100

اس سے جو منھ پھیر لے گا وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا
آية رقم 101

جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے
آية رقم 102

جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے
آية رقم 103

وه آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے

جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے
آية رقم 105

وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا
آية رقم 106

اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا
آية رقم 107

جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ

جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا

جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا

تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا

اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا

اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے

پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا

ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا
آية رقم 116

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا

تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے
آية رقم 118

یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا
آية رقم 119

اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے

لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈاﻻ، کہنے لگا کہ میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو

چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا
آية رقم 122

پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی

فرمایا، تم دونوں یہاں سےاتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا

اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے
آية رقم 125

وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا
آية رقم 126

(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے

ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے

کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
آية رقم 129

اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا

پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے

اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے

اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے

انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں ﻻیا؟ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟

اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے

کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں
تقدم القراءة