ترجمة معاني سورة ص باللغة الأردية من كتاب الترجمة الأردية
محمد إبراهيم جوناكري
الترجمة الإنجليزية - صحيح انترناشونال
المنتدى الإسلامي
الترجمة الإنجليزية
الترجمة الفرنسية - المنتدى الإسلامي
نبيل رضوان
الترجمة الإسبانية
محمد عيسى غارسيا
الترجمة الإسبانية - المنتدى الإسلامي
الترجمة الإسبانية (أمريكا اللاتينية) - المنتدى الإسلامي
المنتدى الإسلامي
الترجمة البرتغالية
حلمي نصر
الترجمة الألمانية - بوبنهايم
عبد الله الصامت
الترجمة الألمانية - أبو رضا
أبو رضا محمد بن أحمد بن رسول
الترجمة الإيطالية
عثمان الشريف
الترجمة التركية - مركز رواد الترجمة
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة التركية - شعبان بريتش
شعبان بريتش
الترجمة التركية - مجمع الملك فهد
مجموعة من العلماء
الترجمة الإندونيسية - شركة سابق
شركة سابق
الترجمة الإندونيسية - المجمع
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الإندونيسية - وزارة الشؤون الإسلامية
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الفلبينية (تجالوج)
مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - دار الإسلام
فريق عمل اللغة الفارسية بموقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - حسين تاجي
حسين تاجي كله داري
الترجمة الأردية
محمد إبراهيم جوناكري
الترجمة البنغالية
أبو بكر محمد زكريا
الترجمة الكردية
حمد صالح باموكي
الترجمة البشتوية
زكريا عبد السلام
الترجمة البوسنية - كوركت
بسيم كوركورت
الترجمة البوسنية - ميهانوفيتش
محمد مهانوفيتش
الترجمة الألبانية
حسن ناهي
الترجمة الأوكرانية
ميخائيلو يعقوبوفيتش
الترجمة الصينية
محمد مكين الصيني
الترجمة الأويغورية
محمد صالح
الترجمة اليابانية
روايتشي ميتا
الترجمة الكورية
حامد تشوي
الترجمة الفيتنامية
حسن عبد الكريم
الترجمة الكازاخية - مجمع الملك فهد
خليفة الطاي
الترجمة الكازاخية - جمعية خليفة ألطاي
جمعية خليفة الطاي الخيرية
الترجمة الأوزبكية - علاء الدين منصور
علاء الدين منصور
الترجمة الأوزبكية - محمد صادق
محمد صادق محمد
الترجمة الأذرية
علي خان موساييف
الترجمة الطاجيكية - عارفي
فريق متخصص مكلف من مركز رواد الترجمة بالشراكة مع موقع دار الإسلام
الترجمة الطاجيكية
خوجه ميروف خوجه مير
الترجمة الهندية
مولانا عزيز الحق العمري
الترجمة المليبارية
عبد الحميد حيدر المدني
الترجمة الغوجراتية
رابيلا العُمري
الترجمة الماراتية
محمد شفيع أنصاري
الترجمة التلجوية
مولانا عبد الرحيم بن محمد
الترجمة التاميلية
عبد الحميد الباقوي
الترجمة السنهالية
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الأسامية
رفيق الإسلام حبيب الرحمن
الترجمة الخميرية
جمعية تطوير المجتمع الاسلامي الكمبودي
الترجمة النيبالية
جمعية أهل الحديث المركزية
الترجمة التايلاندية
مجموعة من جمعية خريجي الجامعات والمعاهد بتايلاند
الترجمة الصومالية
محمد أحمد عبدي
الترجمة الهوساوية
الترجمة الأمهرية
محمد صادق
الترجمة اليورباوية
أبو رحيمة ميكائيل أيكوييني
الترجمة الأورومية
الترجمة التركية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفرنسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإندونيسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفيتنامية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة البوسنية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإيطالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفلبينية (تجالوج) للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفارسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
Dr. Ghali - English translation
Muhsin Khan - English translation
Pickthall - English translation
Yusuf Ali - English translation
Azerbaijani - Azerbaijani translation
Sadiq and Sani - Amharic translation
Farsi - Persian translation
Finnish - Finnish translation
Muhammad Hamidullah - French translation
Korean - Korean translation
Maranao - Maranao translation
Abdul Hameed and Kunhi Mohammed - Malayalam translation
Salomo Keyzer - Flemish (Dutch) translation
Norwegian - Norwegian translation
Samir El - Portuguese translation
Polish - Polish translation
Romanian - Romanian translation
Elmir Kuliev - Russian translation
Albanian - Albanian translation
Tatar - Tatar translation
Japanese - Japanese translation
محمد جوناگڑھی - Urdu translation
Ma Jian - Chinese translation
Turkish - Turkish translation
King Fahad Quran Complex - Thai translation
Ali Muhsin Al - Swahili translation
Abdullah Muhammad Basmeih - Malay translation
Hamza Roberto Piccardo - Italian translation
Indonesian - Indonesian translation
Bubenheim & Elyas - German / Deutsch translation
Bosnian - Bosnian translation
Hasan Efendi Nahi - Albanian translation
Sherif Ahmeti - Albanian translation
Sahih International - English translation
Czech - Czech translation
Abul Ala Maududi(With tafsir) - English translation
Tajik - Tajik translation
Alikhan Musayev - Azerbaijani translation
Muhammad Saleh - Uighur; Uyghur translation
Abdul Haleem - English translation
Mufti Taqi Usmani - English translation
Muhammad Karakunnu and Vanidas Elayavoor - Malayalam translation
Sheikh Isa Garcia - Spanish; Castilian translation
Divehi - Divehi; Dhivehi; Maldivian translation
Abubakar Mahmoud Gumi - Hausa translation
Mahmud Muhammad Abduh - Somali translation
Knut Bernström - Swedish translation
Jan Trust Foundation - Tamil translation
Mykhaylo Yakubovych - Ukrainian translation
Uzbek - Uzbek translation
Diyanet Isleri - Turkish translation
Ministry of Awqaf, Egypt - Russian translation
Abu Adel - Russian translation
Burhan Muhammad - Kurdish translation
Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran - English translation
Dr. Mustafa Khattab - English translation
الترجمة الإنجليزية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الفرنسية - محمد حميد الله
الترجمة البوسنية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الصربية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة الألبانية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة اليابانية - سعيد ساتو
الترجمة الفيتنامية - مركز رواد الترجمة
الترجمة التاميلية - عمر شريف
الترجمة السواحلية - عبد الله محمد وناصر خميس
الترجمة اللوغندية - المؤسسة الإفريقية للتنمية
الترجمة الإنكو بامبارا - ديان محمد
الترجمة العبرية
الترجمة الإنجليزية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الروسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة البنغالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الصينية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة اليابانية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
ترجمة معاني القرآن الكريم - عادل صلاحي
عادل صلاحي
ﰡ
آية رقم 1
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم.*
____________________
* جس میں تمہارے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں، جن سےتمہاری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے نصیحت اور درس عبرت بھی۔ اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد(صلى الله عليه وسلم) ساحر، شاعر یا کاذب ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر ذی شان قرآن نازل ہوا۔
____________________
* جس میں تمہارے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں، جن سےتمہاری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے نصیحت اور درس عبرت بھی۔ اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد(صلى الله عليه وسلم) ساحر، شاعر یا کاذب ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر ذی شان قرآن نازل ہوا۔
آية رقم 2
ﭗﭘﭙﭚﭛﭜ
ﭝ
بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں.*
____________________
* یعنی یہ قرآن تو یقیناً شک سے پاک اور ان کے لئے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لئے نہیں پہنچ رہا ہے کہ ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت وعناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں، حق کے مقابلے میں اکڑنا۔
____________________
* یعنی یہ قرآن تو یقیناً شک سے پاک اور ان کے لئے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لئے نہیں پہنچ رہا ہے کہ ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت وعناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں، حق کے مقابلے میں اکڑنا۔
آية رقم 3
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ* انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا.**
____________________
* جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر وتکذیب کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔
**- یعنی انہوں نے عذاب دیکھ کر مدد کےلئے پکارا اور توبہ پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن وہ وقت توبہ کا تھا نہ فرار کا۔ اس لئے نہ ان کا ایمان نافع ہوا اور نہ وہ بھاگ کر عذاب سے بچ سکے لاتَ، لا ہی سے ہے جس میں ت کا اضافہ ہے جیسے ثَمَّ کو ثَمَّةَ بھی بولتے ہیں مَنَاصٌ، نَاصَ يَنُوصُ کا مصدر ہے، جس کے معنی بھاگنے اور پیچھے ہٹنے کے ہیں۔
____________________
* جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر وتکذیب کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔
**- یعنی انہوں نے عذاب دیکھ کر مدد کےلئے پکارا اور توبہ پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن وہ وقت توبہ کا تھا نہ فرار کا۔ اس لئے نہ ان کا ایمان نافع ہوا اور نہ وہ بھاگ کر عذاب سے بچ سکے لاتَ، لا ہی سے ہے جس میں ت کا اضافہ ہے جیسے ثَمَّ کو ثَمَّةَ بھی بولتے ہیں مَنَاصٌ، نَاصَ يَنُوصُ کا مصدر ہے، جس کے معنی بھاگنے اور پیچھے ہٹنے کے ہیں۔
آية رقم 4
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا* اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے.**
____________________
* یعنی انہی کی طرح کا ایک انسان رسول کس طرح بن گیا۔
____________________
* یعنی انہی کی طرح کا ایک انسان رسول کس طرح بن گیا۔
آية رقم 5
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے.*
____________________
* یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کانظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی طرح عبادت اور نذر ونیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے؟ یہ ان کے لئے تعجب انگیز بات تھی۔
____________________
* یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کانظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی طرح عبادت اور نذر ونیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے؟ یہ ان کے لئے تعجب انگیز بات تھی۔
آية رقم 6
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو*، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے.**
____________________
* یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی عبادت کرتےرہو، محمد (صلى الله عليه وسلم) کی بات پر کان مت دھرو !
**- یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل ہمیں اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت وسیادت منوانا چاہتا ہے۔
____________________
* یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی عبادت کرتےرہو، محمد (صلى الله عليه وسلم) کی بات پر کان مت دھرو !
**- یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل ہمیں اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت وسیادت منوانا چاہتا ہے۔
آية رقم 7
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی*، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے.**
____________________
* پچھلے دین سے مراد یا تو ان کا ہی دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ۔ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔
**- یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔
____________________
* پچھلے دین سے مراد یا تو ان کا ہی دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ۔ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔
**- یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔
آية رقم 8
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے*؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں**، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں.***
____________________
* یعنی مکے میں بڑے بڑے چودہری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی ورسالت کے لئے محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہےخوئے بدر ابہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ زخرف: 32-31۔
**- یعنی ان کا انکاراس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی ریب وشک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایاں توحید کی دعوت ہے۔
***- کیونکہ عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اتنی واضح چیز کی تکذیب نہ کرتے۔ اور جب یہ اس تکذیب کا واقعی مزہ چکھیں گے تو وہ وقت ایسا ہوگا کہ پھر نہ تصدیق کام آئے گی، نہ ایمان ہی فائدہ دے گا۔
____________________
* یعنی مکے میں بڑے بڑے چودہری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی ورسالت کے لئے محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہےخوئے بدر ابہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ زخرف: 32-31۔
**- یعنی ان کا انکاراس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی ریب وشک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایاں توحید کی دعوت ہے۔
***- کیونکہ عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اتنی واضح چیز کی تکذیب نہ کرتے۔ اور جب یہ اس تکذیب کا واقعی مزہ چکھیں گے تو وہ وقت ایسا ہوگا کہ پھر نہ تصدیق کام آئے گی، نہ ایمان ہی فائدہ دے گا۔
آية رقم 9
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں.*
____________________
* کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانے کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے؟ جسے اس نواز نے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔
____________________
* کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانے کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے؟ جسے اس نواز نے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔
آية رقم 10
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں.*
____________________
* یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لئے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ چائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)۔
____________________
* یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لئے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ چائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)۔
آية رقم 11
ﯟﯠﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے.*
____________________
* جُنْدٌ، مبتدا محذوف هُمْ کی خبر ہے اور ما بطور تاکید تعظیم یا تحقیر کے لئے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے۔ یا حقیر، اس کی قطعاً پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست اس کا مقدر ہے۔ هُنَالِكَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔
____________________
* جُنْدٌ، مبتدا محذوف هُمْ کی خبر ہے اور ما بطور تاکید تعظیم یا تحقیر کے لئے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے۔ یا حقیر، اس کی قطعاً پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست اس کا مقدر ہے۔ هُنَالِكَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔
آية رقم 12
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون* نے جھٹلایا تھا.
____________________
* فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضب ناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں، پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا، یا اس سے مقصد بطور استعارہ اس کی قوت وشوکت اور مضبوط حکومت کا اظہار ہے یعنی میخوں سے جس طرح کسی چیز کو مضبوط کر دیاجاتا ہے، اس کا لشکر جرار اور اس کے پیروکار بھی اس کی سلطنت کی قوت واستحکام کا باعث تھے۔
____________________
* فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضب ناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں، پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا، یا اس سے مقصد بطور استعارہ اس کی قوت وشوکت اور مضبوط حکومت کا اظہار ہے یعنی میخوں سے جس طرح کسی چیز کو مضبوط کر دیاجاتا ہے، اس کا لشکر جرار اور اس کے پیروکار بھی اس کی سلطنت کی قوت واستحکام کا باعث تھے۔
آية رقم 13
اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں *نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے.
____________________
* أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لئے دیکھئے سورۂ شعراء۔ 176 کا حاشیہ۔
____________________
* أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لئے دیکھئے سورۂ شعراء۔ 176 کا حاشیہ۔
آية رقم 14
ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی.
آية رقم 15
انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار* ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے.**
____________________
* یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہو جائے گی۔
**- دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ کچھ دودھ دوہ کر بچے کو اونٹنی یا گائے بھینس کے پاس چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے دودھ پینے سےتھنوں میں دودھ اتر آئے، چنانچہ تھوڑی دیر بعد بچے کو زبردستی پیچھے ہٹا کر خود دودھ دوہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا جو وقفہ ہے، یہ فواق کہلاتا ہے۔ یعنی صور پھونکنےکے بعد اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا، بلکہ صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔
____________________
* یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہو جائے گی۔
**- دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ کچھ دودھ دوہ کر بچے کو اونٹنی یا گائے بھینس کے پاس چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے دودھ پینے سےتھنوں میں دودھ اتر آئے، چنانچہ تھوڑی دیر بعد بچے کو زبردستی پیچھے ہٹا کر خود دودھ دوہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا جو وقفہ ہے، یہ فواق کہلاتا ہے۔ یعنی صور پھونکنےکے بعد اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا، بلکہ صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔
آية رقم 16
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے.*
____________________
* قِطٌّ کے معنی ہیں، حصہ، مراد یہاں نامۂ عمل یا سرنوشت ہے۔ یعنی ہمارے نامۂ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب کے آنے سے پہلے ہی ہمیں دنیا میں دے دے۔ یہ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ والی بات ہی ہے۔ یہ وقوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے استہزا اور تمسخر کے طور پر کہا۔
____________________
* قِطٌّ کے معنی ہیں، حصہ، مراد یہاں نامۂ عمل یا سرنوشت ہے۔ یعنی ہمارے نامۂ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب کے آنے سے پہلے ہی ہمیں دنیا میں دے دے۔ یہ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ والی بات ہی ہے۔ یہ وقوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے استہزا اور تمسخر کے طور پر کہا۔
آية رقم 17
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا*، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا.
____________________
* یہ أَيْدٍ، يَدٌ (ہاتھ) کی جمع نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدَ يَئِيدُ کا مصدر أَيْدٍ ہے، قوت وشدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت وصلابت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داود (عليه السلام) کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داود (عليه السلام) کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹہ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے“۔ (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء، باب وآتينا داود زبورا، ومسلم، كتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر)
____________________
* یہ أَيْدٍ، يَدٌ (ہاتھ) کی جمع نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدَ يَئِيدُ کا مصدر أَيْدٍ ہے، قوت وشدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت وصلابت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داود (عليه السلام) کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داود (عليه السلام) کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹہ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے“۔ (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء، باب وآتينا داود زبورا، ومسلم، كتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر)
آية رقم 18
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں.
آية رقم 19
ﭦﭧﭨﭩﭪﭫ
ﭬ
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے.*
____________________
* یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داود (عليه السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قراءت سن کر ہوا ہی میں جمع ہو جاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔ محشورۃ کے معنی مجموعہ ہیں۔
____________________
* یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داود (عليه السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قراءت سن کر ہوا ہی میں جمع ہو جاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔ محشورۃ کے معنی مجموعہ ہیں۔
آية رقم 20
ﭭﭮﭯﭰﭱﭲ
ﭳ
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا* اور اسے حکمت دی تھی** اور بات کا فیصلہ کرنا.***
____________________
* ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔
**- یعنی نبوت، اصابت رائے، قول سداد اور فعل صواب۔
***- یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت وتفقہ اور استدلال وبیان کی قوت۔
____________________
* ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔
**- یعنی نبوت، اصابت رائے، قول سداد اور فعل صواب۔
***- یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت وتفقہ اور استدلال وبیان کی قوت۔
آية رقم 21
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے.*
____________________
* مِحْرَابٌ سے مراد وہ کمرہ ہے جس میں سب سے علیحدہ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے۔ دروازے پر پہرے دار ہوتے، تاکہ کوئی اندر آکر عبادت میں مخل نہ ہو۔ جھگڑا کرنے والے پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر آگئے۔
____________________
* مِحْرَابٌ سے مراد وہ کمرہ ہے جس میں سب سے علیحدہ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے۔ دروازے پر پہرے دار ہوتے، تاکہ کوئی اندر آکر عبادت میں مخل نہ ہو۔ جھگڑا کرنے والے پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر آگئے۔
آية رقم 22
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے*، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے.**
____________________
* ڈرنے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو وہ دروازے کے بجائےعقب سے دیوار چڑھ کر اندر آئے۔ دوسرے، انہوں نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے بادشاہ وقت سے کوئی خوف محسوس نہیں کیا۔ ظاہری اسباب کے مطابق خوف والی چیز سے خوف کھانا، انسان کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ یہ منصب وکمال نبوت کے خلاف ہے نہ توحید کے منافی۔ توحید کے منافی غیر اللہ کا وہ خوف ہے جو ماورائے اسباب ہو۔
**- آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔
____________________
* ڈرنے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو وہ دروازے کے بجائےعقب سے دیوار چڑھ کر اندر آئے۔ دوسرے، انہوں نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے بادشاہ وقت سے کوئی خوف محسوس نہیں کیا۔ ظاہری اسباب کے مطابق خوف والی چیز سے خوف کھانا، انسان کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ یہ منصب وکمال نبوت کے خلاف ہے نہ توحید کے منافی۔ توحید کے منافی غیر اللہ کا وہ خوف ہے جو ماورائے اسباب ہو۔
**- آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔
آية رقم 23
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے* اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے** اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے.***
____________________
* بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔
**- یعنی یہ ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہو جاؤں۔
***- دوسرا ترجمہ ہے (اور یہ گفتگو میں مجھ پر غالب آگیا ہے) یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی وطراری کی وجہ سےلوگوں کو قائل کر لیتا ہے۔
****- یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔
____________________
* بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔
**- یعنی یہ ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہو جاؤں۔
***- دوسرا ترجمہ ہے (اور یہ گفتگو میں مجھ پر غالب آگیا ہے) یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی وطراری کی وجہ سےلوگوں کو قائل کر لیتا ہے۔
****- یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔
آية رقم 24
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے* ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں** اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے*** اور (پوری طرح) رجوع کیا.
____________________
* البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ اس لئےکسی پر زیادتی کرنا اور دوسرے کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
**- وَخَرَّ رَاكِعًا کا مطلب یہاں سجدے میں گر پڑنا ہے۔
____________________
* البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ اس لئےکسی پر زیادتی کرنا اور دوسرے کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
**- وَخَرَّ رَاكِعًا کا مطلب یہاں سجدے میں گر پڑنا ہے۔
آية رقم 25
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا*، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں.
____________________
* حضرت داود (عليه السلام) کا یہ کام کیا تھا جس پر انہیں کوتاہی کا اور توبہ وندامت کا اظہار کا احساس ہوا، اور اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔ قرآن کریم میں اس اجمال کی تفصیل نہیں ہے اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے تو اسرائیلی روایات کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں، جو ایک نبی کی شان سے فروتر ہیں۔ بعض مفسرین مثلاً ابن کثیر نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب قرآن وحدیث اس معاملے میں خاموش ہیں تو ہمیں بھی اس کی تفصیلات کی کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مفسرین کا ایک تیسرا گروہ ہےجو اس واقعے کی بعض جزئیات اور تفصیلات بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کے اجمال کی کچھ توضیح ہو جائے۔ تاہم یہ کسی ایک بیان پر متفق نہیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت داود (عليه السلام) نے ایک فوجی کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور یہ اس زمانے کے عرف میں معیوب بات نہیں تھی۔ حضرت داود (عليه السلام) کو اس عورت کی خوبیوں اور کمالات کا علم ہوا تھا جس بنا پر ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس عورت کو تو ملکہ ہونا چاہئیے نہ کہ ایک عام سی عورت۔ تاکہ اس کی خوبیوں اور کمالات سے پورا ملک فیض یاب ہو۔ یہ خواہش کتنے بھی اچھے جذبے کی بنیاد پر ہو، لیکن ایک تو متعدد بیویوں کی موجودگی میں یہ نامناسب سی بات لگتی ہے۔ دوسرے بادشاہ وقت کی طرف سے اس کے اظہار میں جبر کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس لئے حضرت داود (عليه السلام) کو ایک تمثیلی واقعے سے اس کے نامناسب ہونے کا احساس دلایا گیا اور انہیں فی الواقع اس پر تنبہ ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے یہ دو شخص فرشتے تھے جو ایک فرضی مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، حضرت داود (عليه السلام) سے کوتاہی یہ ہوئی کہ مدعی کا بیان سن کر ہی اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور مدعا علیہ کی بات سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے رفع درجات کے لئے اس آزمائش میں انہیں ڈالا، اس غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ سمجھ گئے کہ یہ آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ان پر آئی اور بارگاہ الٰہی میں جھک گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے فرشتے نہیں تھے، انسان ہی تھے اور یہ فرضی واقعہ نہیں، ایک حقیقی جھگڑا تھا، جس کے فیصلے کے لئے وہ آئے تھے اور اس طرح ان کے صبر وتحمل کا امتحان لیا گیا، کیونکہ اس واقعے میں ناگواری اور اشتعال طبع کے کئی پہلو تھے، ایک تو بلا اجازت دیوار پھاند کر آنا۔ دوسرے، عبادت کے مخصوص اوقات میں آکر مخل ہونا۔ تیسرے، ان کا طرز تکلﻢ بھی آپ کی حاکمانہ شان سے فروتر تھا (کہ زیادتی نہ کرنا وغیرہ) لیکن اللہ نے آپ کو توفیق دی کہ مشتعل نہیں ہوئے اور کمال صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن دل میں جو طبعی ناگواری کا ہلکا سا احساس پیدا ہوا، اس کو بھی اپنی کوتاہی پر محمول کیا، یعنی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی، اس لئے یہ طبعی انقباض بھی نہیں ہونا چاہئے تھا، جس پر انہوں نے توبہ واستغفار کا اہتمام کیا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
____________________
* حضرت داود (عليه السلام) کا یہ کام کیا تھا جس پر انہیں کوتاہی کا اور توبہ وندامت کا اظہار کا احساس ہوا، اور اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔ قرآن کریم میں اس اجمال کی تفصیل نہیں ہے اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے تو اسرائیلی روایات کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں، جو ایک نبی کی شان سے فروتر ہیں۔ بعض مفسرین مثلاً ابن کثیر نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب قرآن وحدیث اس معاملے میں خاموش ہیں تو ہمیں بھی اس کی تفصیلات کی کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مفسرین کا ایک تیسرا گروہ ہےجو اس واقعے کی بعض جزئیات اور تفصیلات بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کے اجمال کی کچھ توضیح ہو جائے۔ تاہم یہ کسی ایک بیان پر متفق نہیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت داود (عليه السلام) نے ایک فوجی کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور یہ اس زمانے کے عرف میں معیوب بات نہیں تھی۔ حضرت داود (عليه السلام) کو اس عورت کی خوبیوں اور کمالات کا علم ہوا تھا جس بنا پر ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس عورت کو تو ملکہ ہونا چاہئیے نہ کہ ایک عام سی عورت۔ تاکہ اس کی خوبیوں اور کمالات سے پورا ملک فیض یاب ہو۔ یہ خواہش کتنے بھی اچھے جذبے کی بنیاد پر ہو، لیکن ایک تو متعدد بیویوں کی موجودگی میں یہ نامناسب سی بات لگتی ہے۔ دوسرے بادشاہ وقت کی طرف سے اس کے اظہار میں جبر کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس لئے حضرت داود (عليه السلام) کو ایک تمثیلی واقعے سے اس کے نامناسب ہونے کا احساس دلایا گیا اور انہیں فی الواقع اس پر تنبہ ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے یہ دو شخص فرشتے تھے جو ایک فرضی مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، حضرت داود (عليه السلام) سے کوتاہی یہ ہوئی کہ مدعی کا بیان سن کر ہی اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور مدعا علیہ کی بات سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے رفع درجات کے لئے اس آزمائش میں انہیں ڈالا، اس غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ سمجھ گئے کہ یہ آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ان پر آئی اور بارگاہ الٰہی میں جھک گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے فرشتے نہیں تھے، انسان ہی تھے اور یہ فرضی واقعہ نہیں، ایک حقیقی جھگڑا تھا، جس کے فیصلے کے لئے وہ آئے تھے اور اس طرح ان کے صبر وتحمل کا امتحان لیا گیا، کیونکہ اس واقعے میں ناگواری اور اشتعال طبع کے کئی پہلو تھے، ایک تو بلا اجازت دیوار پھاند کر آنا۔ دوسرے، عبادت کے مخصوص اوقات میں آکر مخل ہونا۔ تیسرے، ان کا طرز تکلﻢ بھی آپ کی حاکمانہ شان سے فروتر تھا (کہ زیادتی نہ کرنا وغیرہ) لیکن اللہ نے آپ کو توفیق دی کہ مشتعل نہیں ہوئے اور کمال صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن دل میں جو طبعی ناگواری کا ہلکا سا احساس پیدا ہوا، اس کو بھی اپنی کوتاہی پر محمول کیا، یعنی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی، اس لئے یہ طبعی انقباض بھی نہیں ہونا چاہئے تھا، جس پر انہوں نے توبہ واستغفار کا اہتمام کیا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
آية رقم 26
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے.
آية رقم 27
اور ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا*، یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی.
____________________
* بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسےبہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت واطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
____________________
* بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسےبہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت واطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
آية رقم 28
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟
آية رقم 29
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں.
آية رقم 30
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا.
آية رقم 31
ﮅﮆﮇﮈﮉﮊ
ﮋ
جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے.*
____________________
* صَافِنَاتٌ، صَافِنٌ یا صَافِنَةٌ کی جمع ہے، وہ گھوڑے جو تین ٹانگوں پر کھڑے ہوں۔ جِيَادٌ جَوَادٌ کی جمع ہے جو تیز رو گھوڑے کو کہتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (عليه السلام) نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ اصیل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان پر معاینے کے لئے پیش کیے گئے۔ عَشِيٌّ، ظہر یا عصر سے لےکر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے ہم شام سے تعبیر کرتے ہیں۔
____________________
* صَافِنَاتٌ، صَافِنٌ یا صَافِنَةٌ کی جمع ہے، وہ گھوڑے جو تین ٹانگوں پر کھڑے ہوں۔ جِيَادٌ جَوَادٌ کی جمع ہے جو تیز رو گھوڑے کو کہتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (عليه السلام) نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ اصیل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان پر معاینے کے لئے پیش کیے گئے۔ عَشِيٌّ، ظہر یا عصر سے لےکر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے ہم شام سے تعبیر کرتے ہیں۔
آية رقم 32
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا.
آية رقم 33
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.*
____________________
* اس ترجمے کی رو سے أَحْبَبْتُ، بمعنی آثَرْتُ (ترجیح دینا) اور عَنْ بمعنی عَلَى ہے۔ اور تَوَارَتْ کا مرجع شَمْسٌ ہے جو آیت میں پہلے مذکور نہیں ہے، لیکن قرینہ اس پر دال ہے۔ اس تفسیر کی رو سے اگلی آیت میں۔ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ کا ترجمہ بھی ذبح کرنا ہوگا یعنی مَسْحًا بِالسَّيْف ِ کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معاینہ میں حضرت سلیمان (عليه السلام) کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت وہ کرتے تھے۔ جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا وارفتہ اور گم ہو گیا کہ سورج پردۂ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفے سے غافل رہا۔ چنانچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نےسارےگھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے۔ امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ دیگر بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیر کی ہے۔ اس کی رو سے عَنْ، أَجْلٌ کے معنی میں ہے أَيْ : لأَجْلِ ذِكْرِ رَبِّي، یعنی رب کی یاد کی وجہ سے میں ان گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں۔ یعنی اس کے ذریعے سے اللہ کی راہ میں جہاد ہوتا ہے۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑایا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ انہیں دوبارہ طلب کیا اور پیار ومحبت سے ان کی پندلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا خَيْرٌ، قرآن میں مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لفظ گھوڑو ں کے لئے آیا ہے۔ تَوَارَتْ کا مرجع گھوڑے ہیں۔ امام ابن جریر طبری نے اس دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے اور یہی تفسیر متعدد وجوہ سےصحیح لگتی ہے۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
____________________
* اس ترجمے کی رو سے أَحْبَبْتُ، بمعنی آثَرْتُ (ترجیح دینا) اور عَنْ بمعنی عَلَى ہے۔ اور تَوَارَتْ کا مرجع شَمْسٌ ہے جو آیت میں پہلے مذکور نہیں ہے، لیکن قرینہ اس پر دال ہے۔ اس تفسیر کی رو سے اگلی آیت میں۔ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ کا ترجمہ بھی ذبح کرنا ہوگا یعنی مَسْحًا بِالسَّيْف ِ کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معاینہ میں حضرت سلیمان (عليه السلام) کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت وہ کرتے تھے۔ جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا وارفتہ اور گم ہو گیا کہ سورج پردۂ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفے سے غافل رہا۔ چنانچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نےسارےگھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے۔ امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ دیگر بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیر کی ہے۔ اس کی رو سے عَنْ، أَجْلٌ کے معنی میں ہے أَيْ : لأَجْلِ ذِكْرِ رَبِّي، یعنی رب کی یاد کی وجہ سے میں ان گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں۔ یعنی اس کے ذریعے سے اللہ کی راہ میں جہاد ہوتا ہے۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑایا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ انہیں دوبارہ طلب کیا اور پیار ومحبت سے ان کی پندلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا خَيْرٌ، قرآن میں مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لفظ گھوڑو ں کے لئے آیا ہے۔ تَوَارَتْ کا مرجع گھوڑے ہیں۔ امام ابن جریر طبری نے اس دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے اور یہی تفسیر متعدد وجوہ سےصحیح لگتی ہے۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
آية رقم 34
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر* اس نے رجوع کیا.
____________________
* یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعے کو اس پر چسپاں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) نے ایک مرتبہ کہا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد 70 یا 90 تھی) ہمبستری کروں گا تاکہ ان سے شاہ سوار پیدا ہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اس پر ان شاء اللہ نہیں کہا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا اگر سلیمان (عليه السلام) ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب سے مجاہد پیدا ہوتے۔ (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الاستثناء) ان مفسرین کے خیال میں شاید ان شاء اللہ نہ کہنا یا صرف اپنی تدبیر پر اعتماد کرنا یہی فتنہ ہو، جس میں حضرت سلیمان (عليه السلام) مبتلا ہوئے اور کرسی پر ڈالا جانے والا جسم یہی ناقص الخلقت بچہ ہو۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
____________________
* یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعے کو اس پر چسپاں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) نے ایک مرتبہ کہا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد 70 یا 90 تھی) ہمبستری کروں گا تاکہ ان سے شاہ سوار پیدا ہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اس پر ان شاء اللہ نہیں کہا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا اگر سلیمان (عليه السلام) ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب سے مجاہد پیدا ہوتے۔ (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الاستثناء) ان مفسرین کے خیال میں شاید ان شاء اللہ نہ کہنا یا صرف اپنی تدبیر پر اعتماد کرنا یہی فتنہ ہو، جس میں حضرت سلیمان (عليه السلام) مبتلا ہوئے اور کرسی پر ڈالا جانے والا جسم یہی ناقص الخلقت بچہ ہو۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
آية رقم 35
کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے ﻻئق نہ ہو*، تو بڑا ہی دینے واﻻ ہے.
____________________
* یعنی شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو، تیری حکمت ومشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی بااختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہی تھی۔
____________________
* یعنی شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو، تیری حکمت ومشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی بااختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہی تھی۔
آية رقم 36
پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی.*
____________________
* یعنی ہم نے سلیمان (عليه السلام) کی یہ دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، یہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند وتیز کہا ہے، (الانبیاء: 81) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان (عليه السلام) کے لئے اسے نرم کر دیا گیا، حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان (عليه السلام) چاہتے۔ (فتح القدیر)۔
____________________
* یعنی ہم نے سلیمان (عليه السلام) کی یہ دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، یہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند وتیز کہا ہے، (الانبیاء: 81) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان (عليه السلام) کے لئے اسے نرم کر دیا گیا، حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان (عليه السلام) چاہتے۔ (فتح القدیر)۔
آية رقم 37
ﯥﯦﯧﯨ
ﯩ
اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو.
آية رقم 38
ﯪﯫﯬﯭ
ﯮ
اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے.*
____________________
* جنات میں سے جو سرکش یا کافر ہوتے، انہیں بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا، تاکہ وہ اپنے کفر یا سرکشی کی وجہ سے سرتابی نہ کر سکیں۔
____________________
* جنات میں سے جو سرکش یا کافر ہوتے، انہیں بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا، تاکہ وہ اپنے کفر یا سرکشی کی وجہ سے سرتابی نہ کر سکیں۔
آية رقم 39
یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں.*
____________________
* یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو تو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔
____________________
* یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو تو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔
آية رقم 40
ﯷﯸﯹﯺﯻﯼ
ﯽ
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے.*
____________________
* یعنی دنیوی جاہ ومرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان (عليه السلام) کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔
____________________
* یعنی دنیوی جاہ ومرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان (عليه السلام) کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔
آية رقم 41
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے.*
____________________
* حضرت ایوب (عليه السلام) کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے۔ جس کےمطابق اللہ تعالیٰ نے اہل ومال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی، جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح وشام ان کی خدمت بھی کرتی اور ان کو کہیں کام کاﺝ کرکے بقدر کفاف رزق کا انتظام بھی کرتی۔ یہاں پر متعدد تفسیری روایات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اس میں سے کتنا کچھ صحیح ہے اور کتنا نہیں، اسے معلوم کرنے کا کوئی مستند ذریعہ نہیں۔ نُصْبٍ سے جسمانی تکالیف اور عذاب سے مالی ابتلا مراد ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے دراں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
____________________
* حضرت ایوب (عليه السلام) کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے۔ جس کےمطابق اللہ تعالیٰ نے اہل ومال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی، جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح وشام ان کی خدمت بھی کرتی اور ان کو کہیں کام کاﺝ کرکے بقدر کفاف رزق کا انتظام بھی کرتی۔ یہاں پر متعدد تفسیری روایات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اس میں سے کتنا کچھ صحیح ہے اور کتنا نہیں، اسے معلوم کرنے کا کوئی مستند ذریعہ نہیں۔ نُصْبٍ سے جسمانی تکالیف اور عذاب سے مالی ابتلا مراد ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے دراں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
آية رقم 42
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے.*
____________________
* اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (عليه السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پیر مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہوگئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔
____________________
* اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (عليه السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پیر مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہوگئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔
آية رقم 43
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے*، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے.**
____________________
* بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کر دیا گیا تھا، اسے زندہ کر دیا گیا اور اس کے مثل اور مزید کنبہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال واولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دوگنا تھا۔
**- یعنی ایوب (عليه السلام) کو یہ سب کچھ ہم نےدوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلا وشدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب (عليه السلام) نے کیا۔
____________________
* بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کر دیا گیا تھا، اسے زندہ کر دیا گیا اور اس کے مثل اور مزید کنبہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال واولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دوگنا تھا۔
**- یعنی ایوب (عليه السلام) کو یہ سب کچھ ہم نےدوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلا وشدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب (عليه السلام) نے کیا۔
آية رقم 44
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر*، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ.
____________________
* بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کو کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب (عليه السلام) نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائے گی۔ اس امر میں علما کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف حضرت ایوب (عليه السلام) کے ساتھ خاص ہے یا دوسرا کوئی شخص بھی اس طرح سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر حانث ہونے سے بچ سکتا ہے؟ بعض پہلی رائے کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر نیت ضرب شدید کی نہ کی ہو تو اس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ (فتح القدیر) ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی ایک معذور کمزور زانی کو سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر سزا دی۔ (مسند أحمد 5/222 ابن ماجه، كتاب الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد، صححه الألباني) جس سے مخصوص صورتوں میں اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
____________________
* بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کو کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب (عليه السلام) نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائے گی۔ اس امر میں علما کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف حضرت ایوب (عليه السلام) کے ساتھ خاص ہے یا دوسرا کوئی شخص بھی اس طرح سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر حانث ہونے سے بچ سکتا ہے؟ بعض پہلی رائے کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر نیت ضرب شدید کی نہ کی ہو تو اس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ (فتح القدیر) ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی ایک معذور کمزور زانی کو سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر سزا دی۔ (مسند أحمد 5/222 ابن ماجه، كتاب الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد، صححه الألباني) جس سے مخصوص صورتوں میں اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
آية رقم 45
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے* تھے.
____________________
* یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی وعلمی بصیرت میں ممتاز تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ أَيْدِي بمعنی نِعَمٌ ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام واحسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔
____________________
* یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی وعلمی بصیرت میں ممتاز تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ أَيْدِي بمعنی نِعَمٌ ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام واحسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔
آية رقم 46
ﭶﭷﭸﭹﭺ
ﭻ
ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا.*
____________________
* یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چنانچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زہد وتقویٰ کی بنیاد ہے) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔
____________________
* یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چنانچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زہد وتقویٰ کی بنیاد ہے) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔
آية رقم 47
ﭼﭽﭾﭿﮀ
ﮁ
یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے.
آية رقم 48
اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ* تھے.
____________________
* یسع (عليه السلام) کہتے ہیں، حضرت الیاس (عليه السلام) کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے، ذوالکفل کے لئے دیکھئے سورۃ الانبیاء، آیت 85 کا حاشیہ۔ أَخْيَارٌ خَيْرٌ یا خَيِّرٌ کی جمع ہے جیسے مَيِّتٌ کی جمع أَمْوَاتٌ ہے۔
____________________
* یسع (عليه السلام) کہتے ہیں، حضرت الیاس (عليه السلام) کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے، ذوالکفل کے لئے دیکھئے سورۃ الانبیاء، آیت 85 کا حاشیہ۔ أَخْيَارٌ خَيْرٌ یا خَيِّرٌ کی جمع ہے جیسے مَيِّتٌ کی جمع أَمْوَاتٌ ہے۔
آية رقم 49
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے.
آية رقم 50
ﮔﮕﮖﮗﮘ
ﮙ
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں.
آية رقم 51
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں.
آية رقم 52
ﮢﮣﮤﮥﮦ
ﮧ
اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی.*
____________________
* یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے متجاوز نہیں ہوں گی۔ أَتْرَابٌ، تِرْبٌ کی جمع ہے، ہم عمر یا لازوال حسن وجمال کی حامل۔ (فتح القدیر)
____________________
* یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے متجاوز نہیں ہوں گی۔ أَتْرَابٌ، تِرْبٌ کی جمع ہے، ہم عمر یا لازوال حسن وجمال کی حامل۔ (فتح القدیر)
آية رقم 53
ﮨﮩﮪﮫﮬ
ﮭ
یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا.
آية رقم 54
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں.*
____________________
* رزق، بمعنی عطیہ ہے اور هَذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام واعزاز مراد ہیں جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کےمعنی انقطاع اور خاتمے کے ہیں۔ یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزاز وکرام بھی دائمی۔
____________________
* رزق، بمعنی عطیہ ہے اور هَذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام واعزاز مراد ہیں جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کےمعنی انقطاع اور خاتمے کے ہیں۔ یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزاز وکرام بھی دائمی۔
آية رقم 55
ﯗﯘﯙﯚﯛﯜ
ﯝ
یہ تو ہوئی جزا*، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے** بڑی بری جگہ ہے.***
____________________
* هَذَا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی الأَمْرُ هَذَا یا ھذا مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے یعنی هَذَا كَمَا ذُكِرَ یعنی مذکور اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔
**- طَاغِينَ، جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کی تکذیب کی۔ يَصْلُونَ کے معنی ہیں يَدْخُلُونَ، داخل ہوں گے۔
____________________
* هَذَا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی الأَمْرُ هَذَا یا ھذا مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے یعنی هَذَا كَمَا ذُكِرَ یعنی مذکور اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔
**- طَاغِينَ، جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کی تکذیب کی۔ يَصْلُونَ کے معنی ہیں يَدْخُلُونَ، داخل ہوں گے۔
آية رقم 56
ﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے.
آية رقم 57
ﯣﯤﯥﯦ
ﯧ
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ.*
____________________
* حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَليَذُوقُوه، هَذَا کی خبر ہے یعنی هَذَا حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَلْيَذُوقُوهُ یہ ہے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو۔ حَمِيمٌ، گرم کھولتا ہوا پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ غَسَّاقٌ، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا۔ یا سخت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔
____________________
* حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَليَذُوقُوه، هَذَا کی خبر ہے یعنی هَذَا حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَلْيَذُوقُوهُ یہ ہے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو۔ حَمِيمٌ، گرم کھولتا ہوا پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ غَسَّاقٌ، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا۔ یا سخت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔
آية رقم 58
ﯨﯩﯪﯫ
ﯬ
اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب.*
____________________
* شَكْلِه، اس جیسے أَزْوَاجٌ، انواع واقسام یعنی حمیم وغساق جیسے اور بہت سی قسم کے دوسرےعذاب ہوں گے۔
____________________
* شَكْلِه، اس جیسے أَزْوَاجٌ، انواع واقسام یعنی حمیم وغساق جیسے اور بہت سی قسم کے دوسرےعذاب ہوں گے۔
آية رقم 59
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے*، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے** یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں.***
____________________
* جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے، ائمۂ کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے۔ یا ائمۂ کفر وضلالت آپس میں یہ بات، پیرو کاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔
**- یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے۔ رَحْبَةٌ کے معنی وسعت وفراخی کے ہیں۔ مرحبا یہ كَلِمَةُ تَرْحِيبٍ یعنی خیر مقدمی الفاظ ہیں جو آنے والے مہمان کے استقبال کے وقت کہے جاتے ہیں۔ لا مَرْحَبًا اس کے برعکس ہے۔
***- یہ ان کا خیر مقدم نہ کرنے کی علت ہے۔ یعنی ان کے اور ہمارے مابین کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے، یہ بھی ہماری طرح جہنم میں داخل ہو رہے ہیں اور جس طرح ہم عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں، یہ بھی عذاب جہنم کے مستحق قرار پائے ہیں۔
____________________
* جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے، ائمۂ کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے۔ یا ائمۂ کفر وضلالت آپس میں یہ بات، پیرو کاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔
**- یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے۔ رَحْبَةٌ کے معنی وسعت وفراخی کے ہیں۔ مرحبا یہ كَلِمَةُ تَرْحِيبٍ یعنی خیر مقدمی الفاظ ہیں جو آنے والے مہمان کے استقبال کے وقت کہے جاتے ہیں۔ لا مَرْحَبًا اس کے برعکس ہے۔
***- یہ ان کا خیر مقدم نہ کرنے کی علت ہے۔ یعنی ان کے اور ہمارے مابین کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے، یہ بھی ہماری طرح جہنم میں داخل ہو رہے ہیں اور جس طرح ہم عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں، یہ بھی عذاب جہنم کے مستحق قرار پائے ہیں۔
آية رقم 60
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا*، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے.
____________________
* یعنی تم ہی کفر وضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تو تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے مقتداؤں کو کہیں گے۔
____________________
* یعنی تم ہی کفر وضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تو تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے مقتداؤں کو کہیں گے۔
آية رقم 61
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو* اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے.**
____________________
* یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق وصواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔
**- یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الاعراف، 38، سورۃ الاحزاب، 68۔
____________________
* یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق وصواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔
**- یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الاعراف، 38، سورۃ الاحزاب، 68۔
آية رقم 62
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے.*
____________________
* أَشْرَارٌ سے مراد فقراء مومنین ہیں۔ جیسے عمار، خباب، صہیب، بلال وسلیمان وغیرہم۔ (رضي الله عنهم)، انہیں روسائے مکہ ازراہ خبث (برےلوگ) کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
____________________
* أَشْرَارٌ سے مراد فقراء مومنین ہیں۔ جیسے عمار، خباب، صہیب، بلال وسلیمان وغیرہم۔ (رضي الله عنهم)، انہیں روسائے مکہ ازراہ خبث (برےلوگ) کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
آية رقم 63
ﭜﭝﭞﭟﭠﭡ
ﭢ
کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا* یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں.**
____________________
* یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟
**- یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں؟
____________________
* یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟
**- یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں؟
آية رقم 64
ﭣﭤﭥﭦﭧﭨ
ﭩ
یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا.*
____________________
* یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے، جس میں تخلف نہیں ہوگا۔
____________________
* یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے، جس میں تخلف نہیں ہوگا۔
آية رقم 65
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں* اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں.
____________________
* یعنی جو تم گمان کرتے ہو، میں وہ نہیں ہوں بلکہ تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کےعتاب سے ڈرانے والا ہوں۔
____________________
* یعنی جو تم گمان کرتے ہو، میں وہ نہیں ہوں بلکہ تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کےعتاب سے ڈرانے والا ہوں۔
آية رقم 66
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے.
آية رقم 67
ﭿﮀﮁﮂ
ﮃ
آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے.*
____________________
* یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض وغفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
____________________
* یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض وغفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آية رقم 68
ﮄﮅﮆ
ﮇ
جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو.
آية رقم 69
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے.*
____________________
* ملأ اعلیٰ سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث وتکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم (عليه السلام) کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
____________________
* ملأ اعلیٰ سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث وتکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم (عليه السلام) کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
آية رقم 70
میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں.*
____________________
* یعنی میری ذمے داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض وسنن تمہیں بتا دوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے اور ان محرکات ومعاصی کی وضاحت کردوں جن کے اجتناب سے تم رضائے الٰہی کے اور بصورت دیگر اس کے غضب وعقاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ یہی وہ انذار ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے۔
____________________
* یعنی میری ذمے داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض وسنن تمہیں بتا دوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے اور ان محرکات ومعاصی کی وضاحت کردوں جن کے اجتناب سے تم رضائے الٰہی کے اور بصورت دیگر اس کے غضب وعقاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ یہی وہ انذار ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے۔
آية رقم 71
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا* کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا** کرنے واﻻ ہوں.
____________________
* یہ قصہ اس سے قبل سورۂ بقرہ، سورۂ اعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں بیان ہو چکا ہے۔ اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔
**- یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس کے لئے وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے۔
____________________
* یہ قصہ اس سے قبل سورۂ بقرہ، سورۂ اعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں بیان ہو چکا ہے۔ اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔
**- یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس کے لئے وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے۔
آية رقم 72
سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں* اور اس میں اپنی روح پھونک دوں**، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا.***
____________________
* یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کےتمام اجزا درست اور برابر کر لوں۔
**- ) یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کےپھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہو جائے گا۔ انسان کے شرف وعظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔
***- یہ سجدۂ تحیہ یا سجدۂ تعظیم ہے، سجدۂ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم (عليه السلام) کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے“۔ (مشكاة كتاب النكاح، باب عشرة النساء، بحواله ترمذي وقال الألباني، وهو حديث صحيح لشواهده)۔
____________________
* یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کےتمام اجزا درست اور برابر کر لوں۔
**- ) یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کےپھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہو جائے گا۔ انسان کے شرف وعظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔
***- یہ سجدۂ تحیہ یا سجدۂ تعظیم ہے، سجدۂ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم (عليه السلام) کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے“۔ (مشكاة كتاب النكاح، باب عشرة النساء، بحواله ترمذي وقال الألباني، وهو حديث صحيح لشواهده)۔
آية رقم 73
ﮯﮰﮱﯓ
ﯔ
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا.*
____________________
* یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے اسے تعظیماً سجدہ کیا۔ كُلُّهُمْ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے میں پیچھے نہیں رہا۔ اس کے بعد أَجْمَعُونَ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ سجدہ بھی سب نے بیک وقت ہی کیا ہے۔ مختلف اوقات میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تاکید درتاکید تعمیم میں مبالغے کے لئے ہے۔ (فتح القدیر)۔
____________________
* یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے اسے تعظیماً سجدہ کیا۔ كُلُّهُمْ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے میں پیچھے نہیں رہا۔ اس کے بعد أَجْمَعُونَ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ سجدہ بھی سب نے بیک وقت ہی کیا ہے۔ مختلف اوقات میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تاکید درتاکید تعمیم میں مبالغے کے لئے ہے۔ (فتح القدیر)۔
آية رقم 74
ﯕﯖﯗﯘﯙﯚ
ﯛ
مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا* اور وه تھا کافروں میں سے.**
____________________
* اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا، بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔
**- یہ کان صَارَ کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہو گیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
____________________
* اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا، بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔
**- یہ کان صَارَ کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہو گیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
آية رقم 75
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا* تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے.
____________________
* یہ بھی انسان کے شرف وعظمت کے اظہار ہی کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
____________________
* یہ بھی انسان کے شرف وعظمت کے اظہار ہی کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
آية رقم 76
اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے.*
____________________
* یعنی شیطان نے اپنے زعم فاسد میں یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر متجانس (ہم جنس یا قریب قریب ایک درجے میں) ہیں۔ ان میں سے کسی کو، دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم (عليه السلام) کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، پھر اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف وعظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کر دینا ہے، جبکہ مٹی اس کے برعکس انواع واقسام کی پیداوار کا موخذ ہے۔
____________________
* یعنی شیطان نے اپنے زعم فاسد میں یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر متجانس (ہم جنس یا قریب قریب ایک درجے میں) ہیں۔ ان میں سے کسی کو، دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم (عليه السلام) کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، پھر اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف وعظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کر دینا ہے، جبکہ مٹی اس کے برعکس انواع واقسام کی پیداوار کا موخذ ہے۔
آية رقم 77
ﯷﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا.
آية رقم 78
ﯽﯾﯿﰀﰁﰂ
ﰃ
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے.
آية رقم 79
ﰄﰅﰆﰇﰈﰉ
ﰊ
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے.
آية رقم 80
ﰋﰌﰍﰎ
ﰏ
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے.
آية رقم 81
ﰐﰑﰒﰓ
ﰔ
متعین وقت کے دن تک.
آية رقم 82
ﰕﰖﰗﰘ
ﰙ
کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا.
آية رقم 83
ﰚﰛﰜﰝ
ﰞ
بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں.
آية رقم 84
ﭑﭒﭓﭔ
ﭕ
فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں.
آية رقم 85
کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا.
آية رقم 86
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا* اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں.**
____________________
* یعنی اس دعوت وتبلیغ سے میرا مقصد صرف امتثال امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔
**- یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کر دوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو۔ بلکہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ! فرماتے تھے، جس کو کسی بات کا علم نہ ہو، اس کی بابت اسے کہہ دینا چاہئیے، اللہ اعلم یہ کہنا بھی علم ہی ہے، اس لئے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو کہا، فرما دیجئے «وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ» (ابن کثیر) علاوہ ازیں اس سے عام معاملات زندگی میں بھی تکلف وتصنع سے اجتناب کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ جیسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ» (صحيح بخاري، نمبر 7293) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان (رضي الله عنه) کہتے ہیں «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ (صلى الله عليه وسلم) أَنَّ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ» (صحيح الجامع الصغير 9871) ہمیں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے مہمان کے لئے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس، خوراک، رہائش اور دیگر معاملات میں تکلﻔات، جو آج کل معیار زندگی بلند کرنے کے عنوان سے، اصحاب حیثیت کا شعار اور وطیرہ بن چکا ہے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں سادگی اور بے تکلﻔی اختیار کرنے کی تلقین وترغیب ہے۔
____________________
* یعنی اس دعوت وتبلیغ سے میرا مقصد صرف امتثال امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔
**- یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کر دوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو۔ بلکہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ! فرماتے تھے، جس کو کسی بات کا علم نہ ہو، اس کی بابت اسے کہہ دینا چاہئیے، اللہ اعلم یہ کہنا بھی علم ہی ہے، اس لئے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو کہا، فرما دیجئے «وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ» (ابن کثیر) علاوہ ازیں اس سے عام معاملات زندگی میں بھی تکلف وتصنع سے اجتناب کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ جیسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ» (صحيح بخاري، نمبر 7293) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان (رضي الله عنه) کہتے ہیں «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ (صلى الله عليه وسلم) أَنَّ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ» (صحيح الجامع الصغير 9871) ہمیں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے مہمان کے لئے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس، خوراک، رہائش اور دیگر معاملات میں تکلﻔات، جو آج کل معیار زندگی بلند کرنے کے عنوان سے، اصحاب حیثیت کا شعار اور وطیرہ بن چکا ہے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں سادگی اور بے تکلﻔی اختیار کرنے کی تلقین وترغیب ہے۔
آية رقم 87
ﭩﭪﭫﭬﭭ
ﭮ
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے.*
____________________
* یعنی یہ قرآن، یا وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسان اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
____________________
* یعنی یہ قرآن، یا وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسان اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
آية رقم 88
ﭯﭰﭱﭲ
ﭳ
یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے.*
____________________
* یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدہ وعید ذکر کیے ہیں، ان کی حقیقت وصداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہو جاتی ہے۔
____________________
* یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدہ وعید ذکر کیے ہیں، ان کی حقیقت وصداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہو جاتی ہے۔
تقدم القراءة