ترجمة معاني سورة ص باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation
ﰡ
آية رقم 1
ﭑﭒﭓﭔﭕ
ﭖ
ص
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم
آية رقم 2
ﭗﭘﭙﭚﭛﭜ
ﭝ
بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں
آية رقم 3
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا
آية رقم 4
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے
آية رقم 5
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے
آية رقم 6
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے
آية رقم 7
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے
آية رقم 8
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں
آية رقم 9
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں
آية رقم 10
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں
آية رقم 11
ﯟﯠﯡﯢﯣﯤ
ﯥ
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے
آية رقم 12
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا
آية رقم 13
اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے
آية رقم 14
ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی
آية رقم 15
انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے
آية رقم 16
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے
آية رقم 17
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا
آية رقم 18
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں
آية رقم 19
ﭦﭧﭨﭩﭪﭫ
ﭬ
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے
آية رقم 20
ﭭﭮﭯﭰﭱﭲ
ﭳ
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا
آية رقم 21
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے
آية رقم 22
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے
آية رقم 23
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے
آية رقم 24
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا
آية رقم 25
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں
آية رقم 26
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے
آية رقم 27
اور ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا، یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی۔
آية رقم 28
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟
آية رقم 29
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں
آية رقم 30
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا
آية رقم 31
ﮅﮆﮇﮈﮉﮊ
ﮋ
جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے
آية رقم 32
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا
آية رقم 33
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا
آية رقم 34
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا
آية رقم 35
کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے ﻻئق نہ ہو، تو بڑا ہی دینے واﻻ ہے
آية رقم 36
پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی
آية رقم 37
ﯥﯦﯧﯨ
ﯩ
اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو
آية رقم 38
ﯪﯫﯬﯭ
ﯮ
اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے
آية رقم 39
یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں
آية رقم 40
ﯷﯸﯹﯺﯻﯼ
ﯽ
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے
آية رقم 41
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے
آية رقم 42
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
آية رقم 43
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے
آية رقم 44
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ
آية رقم 45
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے
آية رقم 46
ﭶﭷﭸﭹﭺ
ﭻ
ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا
آية رقم 47
ﭼﭽﭾﭿﮀ
ﮁ
یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے
آية رقم 48
اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ تھے
آية رقم 49
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے
آية رقم 50
ﮔﮕﮖﮗﮘ
ﮙ
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں
آية رقم 51
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں
آية رقم 52
ﮢﮣﮤﮥﮦ
ﮧ
اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی
آية رقم 53
ﮨﮩﮪﮫﮬ
ﮭ
یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا
آية رقم 54
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں
آية رقم 55
ﯗﯘﯙﯚﯛﯜ
ﯝ
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے
آية رقم 56
ﯞﯟﯠﯡ
ﯢ
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے
آية رقم 57
ﯣﯤﯥﯦ
ﯧ
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ
آية رقم 58
ﯨﯩﯪﯫ
ﯬ
اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب
آية رقم 59
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں
آية رقم 60
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے
آية رقم 61
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے
آية رقم 62
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
آية رقم 63
ﭜﭝﭞﭟﭠﭡ
ﭢ
کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں
آية رقم 64
ﭣﭤﭥﭦﭧﭨ
ﭩ
یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا
آية رقم 65
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں
آية رقم 66
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے
آية رقم 67
ﭿﮀﮁﮂ
ﮃ
آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے
آية رقم 68
ﮄﮅﮆ
ﮇ
جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو
آية رقم 69
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے
آية رقم 70
میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں
آية رقم 71
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے واﻻ ہوں
آية رقم 72
سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا
آية رقم 73
ﮯﮰﮱﯓ
ﯔ
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا
آية رقم 74
ﯕﯖﯗﯘﯙﯚ
ﯛ
مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وه تھا کافروں میں سے
آية رقم 75
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
آية رقم 76
اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے
آية رقم 77
ﯷﯸﯹﯺﯻ
ﯼ
ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا
آية رقم 78
ﯽﯾﯿﰀﰁﰂ
ﰃ
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے
آية رقم 79
ﰄﰅﰆﰇﰈﰉ
ﰊ
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے
آية رقم 80
ﰋﰌﰍﰎ
ﰏ
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے
آية رقم 81
ﰐﰑﰒﰓ
ﰔ
متعین وقت کے دن تک
آية رقم 82
ﰕﰖﰗﰘ
ﰙ
کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا
آية رقم 83
ﰚﰛﰜﰝ
ﰞ
بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں
آية رقم 84
ﭑﭒﭓﭔ
ﭕ
فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں
آية رقم 85
کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا
آية رقم 86
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں
آية رقم 87
ﭩﭪﭫﭬﭭ
ﭮ
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے
آية رقم 88
ﭯﭰﭱﭲ
ﭳ
یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے
تقدم القراءة