ترجمة معاني سورة يس باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation
ﰡ
آية رقم 1
ﭬ
ﭭ
یس
یٰس
آية رقم 2
ﭮﭯ
ﭰ
قسم ہے قرآن باحکمت کی
آية رقم 3
ﭱﭲﭳ
ﭴ
کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں
آية رقم 4
ﭵﭶﭷ
ﭸ
سیدھے راستے پر ہیں
آية رقم 5
ﭹﭺﭻ
ﭼ
یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے
آية رقم 6
تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں
آية رقم 7
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے
آية رقم 8
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں
آية رقم 9
اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے
آية رقم 10
اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں ﻻئیں گے
آية رقم 11
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے
آية رقم 12
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے
آية رقم 13
اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجیئے جب کہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے
آية رقم 14
جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں
آية رقم 15
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کہا کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو
آية رقم 16
ﭶﭷﭸﭹﭺﭻ
ﭼ
ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بےشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں
آية رقم 17
ﭽﭾﭿﮀﮁ
ﮂ
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے
آية رقم 18
انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی
آية رقم 19
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو
آية رقم 20
اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راه پر چلو
آية رقم 21
ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں
آية رقم 22
اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے
آية رقم 23
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ وه مجھے بچا سکیں
آية رقم 24
ﯪﯫﯬﯭﯮ
ﯯ
پھر تو میں یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں
آية رقم 25
ﯰﯱﯲﯳ
ﯴ
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا
آية رقم 26
(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا
آية رقم 27
کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں سے کر دیا
آية رقم 28
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا، اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں
آية رقم 29
وه تو صرف ایک زور کی چیﺦ تھی کہ یکایک وه سب کے سب بجھ بجھا گئے
آية رقم 30
(ایسے) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو
آية رقم 31
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان کے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وه ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
آية رقم 32
ﮂﮃﮄﮅﮆﮇ
ﮈ
اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وه جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی
آية رقم 33
اور ان کے لئے ایک نشانی (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زنده کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وه کھاتے ہیں
آية رقم 34
اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے، اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں
آية رقم 35
تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں، اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے
آية رقم 36
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں
آية رقم 37
اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وه یکایک اندھیرے میں ره جاتے ہیں
آية رقم 38
اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے مقرر کرده غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا
آية رقم 39
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے
آية رقم 40
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں
آية رقم 41
اور ان کے لئے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا
آية رقم 42
ﭚﭛﭜﭝﭞﭟ
ﭠ
اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں
آية رقم 43
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں
آية رقم 44
ﭫﭬﭭﭮﭯﭰ
ﭱ
لیکن ہم اپنی طرف سے رحمت کرتے ہیں اور ایک مدت تک کے لئے انہیں فائدے دے رہے ہیں
آية رقم 45
اور ان سے جب (کبھی) کہا جاتا ہے کہ اگلے پچھلے (گناہوں) سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
آية رقم 46
اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں
آية رقم 47
اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں
آية رقم 48
وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ
آية رقم 49
انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے
آية رقم 50
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے
آية رقم 51
تو صور کے پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے
آية رقم 52
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا
آية رقم 53
یہ نہیں ہے مگر ایک چیﺦ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے
آية رقم 54
پس آج کسی شخص پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں نہیں بدلہ دیا جائے گا، مگر صرف ان ہی کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے
آية رقم 55
جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں
آية رقم 56
وه اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
آية رقم 57
ﭡﭢﭣﭤﭥﭦ
ﭧ
ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں
آية رقم 58
ﭨﭩﭪﭫﭬ
ﭭ
مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا
آية رقم 59
ﭮﭯﭰﭱ
ﭲ
اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ
آية رقم 60
اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے
آية رقم 61
ﮃﮄﮅﮆﮇﮈ
ﮉ
اور میری ہی عبادت کرنا۔ سیدھی راه یہی ہے
آية رقم 62
شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے
آية رقم 63
ﮔﮕﮖﮗﮘ
ﮙ
یہی وه دوزخ ہے جس کا تمہیں وعده دیا جاتا تھا
آية رقم 64
ﮚﮛﮜﮝﮞ
ﮟ
اپنے کفر کا بدلہ پانے کے لئے آج اس میں داخل ہوجاؤ
آية رقم 65
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے تھے
آية رقم 66
اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟
آية رقم 67
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسﺦ کر دیتے پھر نہ وه چل پھر سکتے اور نہ لوٹ سکتے
آية رقم 68
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے
آية رقم 69
نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے
آية رقم 70
تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے
آية رقم 71
کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے (بھی) پیدا کر دیئے، جن کے یہ مالک ہوگئے ہیں
آية رقم 72
ﭞﭟﭠﭡﭢﭣ
ﭤ
اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کا تابع فرمان بنا دیا ہے جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں
آية رقم 73
انہیں ان سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں، اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟
آية رقم 74
اور وه اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وه مدد کئے جائیں
آية رقم 75
(حاﻻنکہ) ان میں ان کی مدد کی طاقت ہی نہیں، (لیکن) پھر بھی (مشرکین) ان کے لئے حاضر باش لشکری ہیں
آية رقم 76
پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں
آية رقم 77
کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا
آية رقم 78
اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟
آية رقم 79
آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے
آية رقم 80
وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو
آية رقم 81
جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وه ان جیسوں کے پیدا کرنے پرقادر نہیں، بےشک قادر ہے۔ اور وہی تو پیدا کرنے واﻻ دانا (بینا) ہے
آية رقم 82
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے
آية رقم 83
پس پاک ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے
تقدم القراءة