ترجمة معاني سورة الصافات باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 1

صافات


قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی
آية رقم 2

پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی
آية رقم 3

پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی
آية رقم 4

یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے
آية رقم 5

آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے
آية رقم 6

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا

عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں
آية رقم 9

بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے
آية رقم 10

مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے

ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے
آية رقم 12

بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں
آية رقم 13

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے
آية رقم 14

اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں
آية رقم 15

اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے
آية رقم 16

کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟
آية رقم 17

کیا ہم سے پہلے کے ہمارے باپ دادا بھی؟
آية رقم 18

آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے
آية رقم 19

وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے
آية رقم 20

اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے
آية رقم 22

ﻇالموں کو اور ان کے ہمراہیوں کو اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے
آية رقم 24

اور انہیں ٹھہرا لو، (اس لئے) کہ ان سے (ضروری) سوال کیے جانے والے ہیں
آية رقم 25

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے
آية رقم 26

بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے
آية رقم 27

وه ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنے لگیں گے
آية رقم 28

کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے
آية رقم 29

وه جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان والے نہ تھے
آية رقم 31

اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں
آية رقم 32

پس ہم نے تمہیں گمراه کیا ہم تو خود بھی گمراه ہی تھے
آية رقم 33

سو اب آج کے دن تو (سب کے سب) عذاب میں شریک ہیں
آية رقم 34

ہم گناه گاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں

یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے
آية رقم 36

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟
آية رقم 37

(نہیں نہیں) بلکہ (نبی) تو حق (سچا دین) ﻻئے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں
آية رقم 38

یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزه) چکھنے والے ہو
آية رقم 39

تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے
آية رقم 40

مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیده بندے
آية رقم 42

(ہر طرح کے) میوے، اور وه باعزت واکرام ہوں گے
آية رقم 43

نعمتوں والی جنتوں میں
آية رقم 44

تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے
آية رقم 45

جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا
آية رقم 46

جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی
آية رقم 48

اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی
آية رقم 49

ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے
آية رقم 50

(جنتی) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھیں گے
آية رقم 51

ان میں سے ایک کہنے واﻻ کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا
آية رقم 52

جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟
آية رقم 53

کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟
آية رقم 54

کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟
آية رقم 55

جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا
آية رقم 56

کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے
آية رقم 57

اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا
آية رقم 58

کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟
آية رقم 59

بجز پہلی ایک موت کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں
آية رقم 60

پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے
آية رقم 61

ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے
آية رقم 62

کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟
آية رقم 63

جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے
آية رقم 65

جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں
آية رقم 66

(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
آية رقم 68

پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا
آية رقم 69

یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا
آية رقم 70

اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے
آية رقم 71

ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں
آية رقم 72

جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے
آية رقم 73

اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا
آية رقم 74

سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے
آية رقم 75

اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں
آية رقم 76

ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو اس زبردست مصیبت سے بچا لیا
آية رقم 77

اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی
آية رقم 78

اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا
آية رقم 79

نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو
آية رقم 80

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں
آية رقم 81

وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا
آية رقم 82

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
آية رقم 83

اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے
آية رقم 85

انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟
آية رقم 86

کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟
آية رقم 87

تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟
آية رقم 88

اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی
آية رقم 89

اور کہا میں تو بیمار ہوں
آية رقم 90

اس پر وه سب اس سے منھ موڑے ہوئے واپس چلے گئے
آية رقم 91

آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟
آية رقم 92

تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ہو
آية رقم 93

پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے
آية رقم 94

وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ ہوئے
آية رقم 95

تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو
آية رقم 96

حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے
آية رقم 97

وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو
آية رقم 98

انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا
آية رقم 99

اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا
آية رقم 100

اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما
آية رقم 101

تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی

پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
آية رقم 103

غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا
آية رقم 104

تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!
آية رقم 105

یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں
آية رقم 107

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا
آية رقم 108

اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا
آية رقم 109

ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو
آية رقم 110

ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں
آية رقم 111

بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا
آية رقم 112

اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا

اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں
آية رقم 114

یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا
آية رقم 115

اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی
آية رقم 116

اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے
آية رقم 117

اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی
آية رقم 118

اور انہیں سیدھے راستہ پرقائم رکھا
آية رقم 119

اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی
آية رقم 120

کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو
آية رقم 121

بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلے دیا کرتے ہیں
آية رقم 122

یقیناً یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
آية رقم 123

بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے
آية رقم 124

جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟
آية رقم 125

کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟
آية رقم 126

اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے
آية رقم 127

لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے جائیں گے
آية رقم 128

سوائے اللہ تعالی کے مخلص بندوں کے
آية رقم 129

ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا
آية رقم 131

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں
آية رقم 132

بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے
آية رقم 133

بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے
آية رقم 134

ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی
آية رقم 135

بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے ره جانے والوں میں سے ره گئی
آية رقم 136

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کر دیا
آية رقم 137

اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو
آية رقم 138

اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟
آية رقم 139

اور بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نبیوں میں سے تھے
آية رقم 141

پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے
آية رقم 142

تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگ گئے
آية رقم 143

پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے
آية رقم 144

تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے
آية رقم 145

پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے
آية رقم 146

اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت ہم نے اگا دیا
آية رقم 147

اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیاده آدمیوں کی طرف بھیجا
آية رقم 148

پس وه ایمان ﻻئے، اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش وعشرت دی
آية رقم 149

ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟
آية رقم 150

یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا
آية رقم 151

آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں
آية رقم 152

کہ اللہ تعالی کی اوﻻد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں
آية رقم 153

کیا اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی
آية رقم 154

تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے حکم لگاتے پھرتے ہو؟
آية رقم 155

کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے؟
آية رقم 156

یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے
آية رقم 157

تو جاؤ اگر سچے ہو تو اپنی ہی کتاب لے آؤ

اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے
آية رقم 159

جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے
آية رقم 160

سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے
آية رقم 161

یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان (باطل)
آية رقم 162

کسی ایک کو بھی بہکا نہیں سکتے
آية رقم 164

(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے
آية رقم 165

اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں
آية رقم 166

اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں
آية رقم 168

کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا
آية رقم 169

تو ہم بھی اللہ کے چیده بندے بن جاتے
آية رقم 170

لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے، پس اب عنقریب جان لیں گے
آية رقم 171

اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے
آية رقم 172

کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے
آية رقم 173

اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا
آية رقم 174

اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے
آية رقم 175

اور انہیں دیکھتے رہیئے، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے
آية رقم 176

کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
آية رقم 177

سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا بڑی بری صبح ہوگی
آية رقم 178

آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے
آية رقم 179

اور دیکھتے رہئیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے
آية رقم 180

پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں
آية رقم 182

اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے
تقدم القراءة