ترجمة معاني سورة الدّخان باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 1

دخّان


حٰم
آية رقم 2

قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی

یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں
آية رقم 4

اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے
آية رقم 5

ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے

جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو

کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا
آية رقم 10

آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا
آية رقم 12

کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں
آية رقم 13

ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے
آية رقم 14

پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے
آية رقم 15

ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے
آية رقم 16

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں

یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا

کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں

اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں
آية رقم 20

اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو
آية رقم 21

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو
آية رقم 22

پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں
آية رقم 23

(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا پیچھا کیا جائے گا
آية رقم 24

تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا
آية رقم 26

اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے
آية رقم 27

اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے
آية رقم 28

اسی طرح ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا
آية رقم 30

اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی
آية رقم 31

(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا
آية رقم 32

اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی
آية رقم 33

اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی
آية رقم 34

یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں
آية رقم 35

کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے
آية رقم 36

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ

کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے
آية رقم 38

ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا
آية رقم 39

بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے
آية رقم 40

یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے

اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی
آية رقم 42

مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے
آية رقم 43

بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت
آية رقم 44

گناه گار کا کھانا ہے
آية رقم 45

جو مثل تلچھٹ کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے
آية رقم 46

مثل تیز گرم پانی کے
آية رقم 47

اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ
آية رقم 49

(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا
آية رقم 51

بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے
آية رقم 53

باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
آية رقم 54

یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے
آية رقم 55

دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے

وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا
آية رقم 58

ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں
آية رقم 59

اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں
تقدم القراءة