ترجمة معاني سورة الذاريات باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 1

ذاریات


قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر
آية رقم 2

پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو
آية رقم 3

پھر چلنے والیاں نرمی سے
آية رقم 4

پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں
آية رقم 5

یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں
آية رقم 6

اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے
آية رقم 7

قسم ہے راہوں والے آسمان کی
آية رقم 8

یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو
آية رقم 9

اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو
آية رقم 10

بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے
آية رقم 12

پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
آية رقم 13

ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے
آية رقم 14

اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے
آية رقم 15

بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے

ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے
آية رقم 18

اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے
آية رقم 19

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا
آية رقم 20

اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں
آية رقم 21

اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو
آية رقم 22

اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے

آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو
آية رقم 24

کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟

وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں
آية رقم 26

پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے
آية رقم 27

اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں

پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی

پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ

انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے
آية رقم 31

(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟
آية رقم 32

انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناه گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
آية رقم 34

جو تیرے رب کی طرف سے نشان زده ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے
آية رقم 35

پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے انہیں نکال لیا
آية رقم 37

اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو درد ناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی
آية رقم 38

موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا
آية رقم 39

پس اس نےاپنے بل بوتے پر منھ موڑا اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
آية رقم 40

بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل
آية رقم 41

اسی طرح عادیوں میں بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے خالی آندھی بھیجی

وه جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیده ہدی کی طرح (چورا چورا) کردیتی تھی
آية رقم 43

اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو
آية رقم 44

لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے (تیز وتند) کڑاکے نے ہلاک کر دیا

اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے
آية رقم 47

آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں
آية رقم 48

اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں
آية رقم 49

اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھراؤ۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے واﻻ ہوں

اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
آية رقم 54

(نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں۔ تو آپ ان سے منھ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں
آية رقم 55

اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی
آية رقم 56

میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں

نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں
آية رقم 58

اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے

پس جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا، لہٰذا وه مجھ سے جلدی طلب نہ کریں
آية رقم 60

پس خرابی ہے منکروں کو ان کے اس دن کی جس کا وعده دیئے جاتے ہیں
تقدم القراءة