ترجمة معاني سورة النازعات باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 1

نازعات


ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!
آية رقم 2

بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!
آية رقم 3

اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!
آية رقم 4

پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!
آية رقم 5

پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!
آية رقم 6

جس دن کانپنے والی کانپے گی
آية رقم 7

اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی
آية رقم 8

(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے
آية رقم 9

جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی
آية رقم 10

کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟
آية رقم 11

کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟
آية رقم 12

کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے
آية رقم 13

(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے
آية رقم 14

کہ (جس کے ﻇاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے
آية رقم 15

کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
آية رقم 16

جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا
آية رقم 17

(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے
آية رقم 18

اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے
آية رقم 19

اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے
آية رقم 20

پس اسے بڑی نشانی دکھائی
آية رقم 21

تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی
آية رقم 22

پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے
آية رقم 23

پھر سب کو جمع کرکے پکارا
آية رقم 25

تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا
آية رقم 27

کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا
آية رقم 28

اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا
آية رقم 29

اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا
آية رقم 30

اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا
آية رقم 31

اس میں سے پانی اور چاره نکالا
آية رقم 32

اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا
آية رقم 33

یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں)
آية رقم 34

پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی
آية رقم 35

جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا
آية رقم 36

اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ﻇاہر کی جائے گی
آية رقم 37

تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)
آية رقم 38

اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی)

ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا
آية رقم 42

لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں
آية رقم 43

آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟
آية رقم 44

اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے
آية رقم 45

آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں

جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں
تقدم القراءة