ترجمة معاني سورة الشعراء باللغة الأردية من كتاب محمد جوناگڑھی - Urdu translation

الترجمة الإنجليزية - صحيح انترناشونال
المنتدى الإسلامي
الترجمة الإنجليزية
الترجمة الفرنسية - المنتدى الإسلامي
نبيل رضوان
الترجمة الإسبانية
محمد عيسى غارسيا
الترجمة الإسبانية - المنتدى الإسلامي
الترجمة الإسبانية (أمريكا اللاتينية) - المنتدى الإسلامي
المنتدى الإسلامي
الترجمة البرتغالية
حلمي نصر
الترجمة الألمانية - بوبنهايم
عبد الله الصامت
الترجمة الألمانية - أبو رضا
أبو رضا محمد بن أحمد بن رسول
الترجمة الإيطالية
عثمان الشريف
الترجمة التركية - مركز رواد الترجمة
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة التركية - شعبان بريتش
شعبان بريتش
الترجمة التركية - مجمع الملك فهد
مجموعة من العلماء
الترجمة الإندونيسية - شركة سابق
شركة سابق
الترجمة الإندونيسية - المجمع
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الإندونيسية - وزارة الشؤون الإسلامية
وزارة الشؤون الإسلامية الأندونيسية
الترجمة الفلبينية (تجالوج)
مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - دار الإسلام
فريق عمل اللغة الفارسية بموقع دار الإسلام
الترجمة الفارسية - حسين تاجي
حسين تاجي كله داري
الترجمة الأردية
محمد إبراهيم جوناكري
الترجمة البنغالية
أبو بكر محمد زكريا
الترجمة الكردية
حمد صالح باموكي
الترجمة البشتوية
زكريا عبد السلام
الترجمة البوسنية - كوركت
بسيم كوركورت
الترجمة البوسنية - ميهانوفيتش
محمد مهانوفيتش
الترجمة الألبانية
حسن ناهي
الترجمة الأوكرانية
ميخائيلو يعقوبوفيتش
الترجمة الصينية
محمد مكين الصيني
الترجمة الأويغورية
محمد صالح
الترجمة اليابانية
روايتشي ميتا
الترجمة الكورية
حامد تشوي
الترجمة الفيتنامية
حسن عبد الكريم
الترجمة الكازاخية - مجمع الملك فهد
خليفة الطاي
الترجمة الكازاخية - جمعية خليفة ألطاي
جمعية خليفة الطاي الخيرية
الترجمة الأوزبكية - علاء الدين منصور
علاء الدين منصور
الترجمة الأوزبكية - محمد صادق
محمد صادق محمد
الترجمة الأذرية
علي خان موساييف
الترجمة الطاجيكية - عارفي
فريق متخصص مكلف من مركز رواد الترجمة بالشراكة مع موقع دار الإسلام
الترجمة الطاجيكية
خوجه ميروف خوجه مير
الترجمة الهندية
مولانا عزيز الحق العمري
الترجمة المليبارية
عبد الحميد حيدر المدني
الترجمة الغوجراتية
رابيلا العُمري
الترجمة الماراتية
محمد شفيع أنصاري
الترجمة التلجوية
مولانا عبد الرحيم بن محمد
الترجمة التاميلية
عبد الحميد الباقوي
الترجمة السنهالية
فريق مركز رواد الترجمة بالتعاون مع موقع دار الإسلام
الترجمة الأسامية
رفيق الإسلام حبيب الرحمن
الترجمة الخميرية
جمعية تطوير المجتمع الاسلامي الكمبودي
الترجمة النيبالية
جمعية أهل الحديث المركزية
الترجمة التايلاندية
مجموعة من جمعية خريجي الجامعات والمعاهد بتايلاند
الترجمة الصومالية
محمد أحمد عبدي
الترجمة الهوساوية
الترجمة الأمهرية
محمد صادق
الترجمة اليورباوية
أبو رحيمة ميكائيل أيكوييني
الترجمة الأورومية
الترجمة التركية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفرنسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإندونيسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفيتنامية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة البوسنية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الإيطالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفلبينية (تجالوج) للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
الترجمة الفارسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
مركز تفسير للدراسات القرآنية
Dr. Ghali - English translation
Muhsin Khan - English translation
Pickthall - English translation
Yusuf Ali - English translation
Azerbaijani - Azerbaijani translation
Sadiq and Sani - Amharic translation
Farsi - Persian translation
Finnish - Finnish translation
Muhammad Hamidullah - French translation
Korean - Korean translation
Maranao - Maranao translation
Abdul Hameed and Kunhi Mohammed - Malayalam translation
Salomo Keyzer - Flemish (Dutch) translation
Norwegian - Norwegian translation
Samir El - Portuguese translation
Polish - Polish translation
Romanian - Romanian translation
Elmir Kuliev - Russian translation
Albanian - Albanian translation
Tatar - Tatar translation
Japanese - Japanese translation
محمد جوناگڑھی - Urdu translation
Ma Jian - Chinese translation
Turkish - Turkish translation
King Fahad Quran Complex - Thai translation
Ali Muhsin Al - Swahili translation
Abdullah Muhammad Basmeih - Malay translation
Hamza Roberto Piccardo - Italian translation
Indonesian - Indonesian translation
Bubenheim & Elyas - German / Deutsch translation
Bosnian - Bosnian translation
Hasan Efendi Nahi - Albanian translation
Sherif Ahmeti - Albanian translation
Sahih International - English translation
Czech - Czech translation
Abul Ala Maududi(With tafsir) - English translation
Tajik - Tajik translation
Alikhan Musayev - Azerbaijani translation
Muhammad Saleh - Uighur; Uyghur translation
Abdul Haleem - English translation
Mufti Taqi Usmani - English translation
Muhammad Karakunnu and Vanidas Elayavoor - Malayalam translation
Sheikh Isa Garcia - Spanish; Castilian translation
Divehi - Divehi; Dhivehi; Maldivian translation
Abubakar Mahmoud Gumi - Hausa translation
Mahmud Muhammad Abduh - Somali translation
Knut Bernström - Swedish translation
Jan Trust Foundation - Tamil translation
Mykhaylo Yakubovych - Ukrainian translation
Uzbek - Uzbek translation
Diyanet Isleri - Turkish translation
Ministry of Awqaf, Egypt - Russian translation
Abu Adel - Russian translation
Burhan Muhammad - Kurdish translation
Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran - English translation
Dr. Mustafa Khattab - English translation
الترجمة الإنجليزية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الفرنسية - محمد حميد الله
الترجمة البوسنية - مركز رواد الترجمة
الترجمة الصربية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة الألبانية - مركز رواد الترجمة - جار العمل عليها
الترجمة اليابانية - سعيد ساتو
الترجمة الفيتنامية - مركز رواد الترجمة
الترجمة التاميلية - عمر شريف
الترجمة السواحلية - عبد الله محمد وناصر خميس
الترجمة اللوغندية - المؤسسة الإفريقية للتنمية
الترجمة الإنكو بامبارا - ديان محمد
الترجمة العبرية
الترجمة الإنجليزية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الروسية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة البنغالية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة الصينية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
الترجمة اليابانية للمختصر في تفسير القرآن الكريم
ترجمة معاني القرآن الكريم - عادل صلاحي
عادل صلاحي

محمد جوناگڑھی - Urdu translation

آية رقم 1

شعراء


طٰسم
آية رقم 3

ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں

اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے
آية رقم 6

ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں

کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟

بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں
آية رقم 9

اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے
آية رقم 10

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا
آية رقم 11

قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے
آية رقم 12

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں
آية رقم 13

اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے میری زبان چل نہیں رہی پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج
آية رقم 14

اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں

جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں
آية رقم 16

تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں
آية رقم 17

کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟ اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟
آية رقم 19

پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے
آية رقم 20

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا

پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا
آية رقم 22

مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
آية رقم 23

فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو
آية رقم 25

فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟
آية رقم 26

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے
آية رقم 27

فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو
آية رقم 29

فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا
آية رقم 30

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟
آية رقم 32

آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی
آية رقم 33

اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا
آية رقم 34

فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے
آية رقم 35

یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو
آية رقم 36

ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے
آية رقم 37

جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں
آية رقم 38

پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے
آية رقم 39

اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟
آية رقم 40

تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں
آية رقم 42

فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے
آية رقم 43

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو

انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے
آية رقم 45

اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا
آية رقم 46

یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے
آية رقم 47

اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے
آية رقم 48

یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر

فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
آية رقم 50

انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی

اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے
آية رقم 53

فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا
آية رقم 54

کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے
آية رقم 55

اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں
آية رقم 56

اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے
آية رقم 57

بالﺂخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے
آية رقم 58

اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا
آية رقم 59

اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا
آية رقم 60

پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے
آية رقم 61

پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے
آية رقم 62

موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا
آية رقم 64

اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا
آية رقم 65

اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی
آية رقم 66

پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا

یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں
آية رقم 68

اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
آية رقم 69

انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو
آية رقم 70

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
آية رقم 71

انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں
آية رقم 72

آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
آية رقم 73

یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں
آية رقم 74

انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا
آية رقم 75

آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی ہے جنہیں تم پوج رہے ہو
آية رقم 76

تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں
آية رقم 77

بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے
آية رقم 78

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے
آية رقم 79

وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے
آية رقم 80

اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے
آية رقم 81

اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا
آية رقم 82

اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا
آية رقم 83

اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے
آية رقم 84

اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ
آية رقم 85

مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے
آية رقم 86

اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا
آية رقم 87

اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر
آية رقم 89

لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے
آية رقم 90

اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی
آية رقم 91

اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی
آية رقم 92

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
آية رقم 93

جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں
آية رقم 94

پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے
آية رقم 95

اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر بھی، وہاں
آية رقم 96

آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے
آية رقم 97

کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے
آية رقم 98

جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے
آية رقم 99

اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا
آية رقم 100

اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں
آية رقم 101

اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست
آية رقم 102

اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے
آية رقم 103

یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں
آية رقم 104

یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے
آية رقم 105

قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا
آية رقم 106

جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
آية رقم 107

سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں
آية رقم 108

پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے
آية رقم 110

پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو
آية رقم 111

قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے
آية رقم 112

آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟
آية رقم 114

میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں
آية رقم 115

میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں
آية رقم 116

انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا
آية رقم 117

آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
آية رقم 118

پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے
آية رقم 119

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی
آية رقم 120

بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا
آية رقم 121

یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں
آية رقم 122

اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ
آية رقم 123

عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
آية رقم 124

جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
آية رقم 125

میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں
آية رقم 126

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!

میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے
آية رقم 128

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو
آية رقم 129

اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے
آية رقم 130

اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو
آية رقم 131

اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو
آية رقم 132

اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو
آية رقم 133

اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے
آية رقم 134

باغات سے اور چشموں سے
آية رقم 135

مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے
آية رقم 136

انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے
آية رقم 138

اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے

چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے
آية رقم 141

ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
آية رقم 142

ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟
آية رقم 143

میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں
آية رقم 144

تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو
آية رقم 146

کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے
آية رقم 147

یعنی ان باغوں اور ان چشموں
آية رقم 148

اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں
آية رقم 149

اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو
آية رقم 150

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
آية رقم 151

بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاؤ
آية رقم 152

جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
آية رقم 153

وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے
آية رقم 155

آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری
آية رقم 156

(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا
آية رقم 157

پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے

اور عذاب نے انہیں آ دبوچا۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے
آية رقم 159

اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے
آية رقم 160

قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا
آية رقم 161

ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
آية رقم 162

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
آية رقم 163

پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے
آية رقم 165

کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے
آية رقم 167

انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا
آية رقم 168

آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں
آية رقم 169

میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں
آية رقم 170

پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا
آية رقم 171

بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی
آية رقم 172

پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا
آية رقم 173

اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا
آية رقم 175

بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
آية رقم 176

اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
آية رقم 177

جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
آية رقم 178

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں
آية رقم 179

اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو

میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے
آية رقم 181

ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو
آية رقم 182

اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو
آية رقم 183

لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو
آية رقم 184

اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے
آية رقم 185

انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے
آية رقم 186

اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں
آية رقم 188

کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا
آية رقم 191

اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ
آية رقم 192

اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے
آية رقم 193

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
آية رقم 194

آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں
آية رقم 196

اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے
آية رقم 197

کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
آية رقم 198

اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے
آية رقم 199

پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے
آية رقم 200

اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے
آية رقم 201

وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے
آية رقم 202

پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا
آية رقم 203

اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟
آية رقم 204

پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
آية رقم 205

اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا
آية رقم 206

پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے
آية رقم 207

تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا
آية رقم 208

ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے
آية رقم 209

نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں
آية رقم 211

نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے
آية رقم 212

بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں
آية رقم 213

پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے
آية رقم 214

اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے
آية رقم 215

اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے
آية رقم 216

اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو
آية رقم 217

اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ
آية رقم 218

جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے
آية رقم 219

اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی
آية رقم 220

وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے
آية رقم 221

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں
آية رقم 222

وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں
آية رقم 223

(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں
آية رقم 224

شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں
آية رقم 225

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں

سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں
تقدم القراءة